برہان وانی کی شہادت نے جدوجہد آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے،سید صلاح الدین

140

کراچی: حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر ومتحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے اگر مجرمانہ خاموشی ترک نہ کی اور کشمیریوں کو جائز اور قانونی حق نہ دلایا تو کشمیری عوام خونی لکیر عبور کرلیں گے اور سیز فائر لائن کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی ۔عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ دیں کیونکہ خطے میں اس وجہ سے بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے ۔پاکستان کشمیریوں کا بنیادی اور اصولی وکیل ہے اور کشمیریوں کی مدد کرنے کا پابند ہے ۔حکومت پاکستان اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے دروازے دستک دے یا دھرنا دے ۔کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کے لیے ہر سطح پر لڑا جائے ۔حکومت پاکستان موجودہ حالات میں دہلی سے اپنا پورا سفارتی مشن اور عملہ واپس بلائے ۔کشمیر کے مظلوم اورنہتے عوام تک عالمی رسائی کے مواقع پیدا کیے جائیں ۔وزیر داخلہ چوہدری نثار کے موقف کی ہم تائید اور حمایت کرتے ہوئے بھر پور خیر مقدم کرتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے اتوار کے روز ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر حزب المجاہدین پاکستان کے مرکزی رہنما تاج الدین ،نائب امراءمظفر احمد ہاشمی ، ڈاکٹر اسامہ رضی ،سکریٹری کراچی عبد الوہاب، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔

سید صلاح الدین نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے اور پوری کشمیری عوام اور قیادت کو متحد اور یکجا کردیا ہے ۔کشمیر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آج عوام بھارت کی مودی سرکار کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔یہ بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں کشمیری عوام کا ریفرنڈم اور رائے شماری ہے اسے عالمی سطح پر تسلیم اور قبول کیا جائے اور بھارت کو انسانی حقوق کی پامالی سے روکا جائے ۔

سید صلاح الدین نے کہا کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوانے کے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو خاموشی ترک کرنا ہوگی۔حق خود ارادیت کشمیری عوام کا قانونی اور جائز حق ہے اور خود اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیرمیں استصواب رائے کرایا جا نا ہے لیکن افسوس کہ ان قراردادوں پر عمل نہیں ہوا ۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیر میں بھی اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جنگ پاکستان کی جنگ ہے اور ان کی جدوجہد تکمیل پاکستان کی جدوجہد ہے ۔میڈیا پر مقبوضہ کشمیر کی صحیح تصویر سامنے نہیں آرہی ۔میڈیا پر پابندیاں ہیں ۔انٹرنیٹ اور فیس بک بند ہے ۔یہ پورا علاقہ دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر قومی اور دیرینہ موقف کو ازسر نو تازہ کیا جائے اور کشمیریوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے ۔موجودہ حالات میں حکومت پاکستان ،پاکستان کا میڈیا اور پاکستان کی تمام جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور کشمیریوں کی کھل کر حمایت کی جانی چاہیئے ۔

سید صلاح الدین نے مطالبہ کیا ہے کہ 30دن سے کرفیو میں محصور زخمیوں اور بھوک اور پیاس میں مبتلا شہریوں تک عالمی اداروں کی رسائی ممکن بناتے ہوئے زخمیوں کے علاج کا بندوبست کیاجائے اور اشیائے ضرورت فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ حکومت پاکستان اس سلسلے میں اپنا موثر کردار ادا کرے اور غفلت سے بیدار ہوکر کشمیری مسلمانوں کی ٹھو س ،سیاسی، سفارتی اور اخلاقی و مادی مدد کرے ۔پاکستان کے تمام سفارت خانے اس سلسلے میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور دنیا کے سامنے بھارت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کریں ۔

سید صلاح الدین نے کہا کہ پاکستانی حکومت کشمیری عوام کی اس تاریخی بیداری سے فیصلہ کن فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی اختیار کرے اور کشمیری عوام کو اس نازک موقع پر اعتماد فراہم کرے اور امید اور حوصلہ دے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں تشدد کی حالیہ لہر میں اب تک 65افراد جام شہادت نوش کرگئے ہیں ۔آج کرفیو کا 30داں دن ہے لیکن بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری عوام روزانہ گھروں سے نکل کر احتجاج کررہے ہیں ۔ان 30دنوں میں 5ہزار سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں ۔

سید صلاح الدین نے کہا کہ شہید برہان مظفر وانی کے نماز جنازہ میں پابندیوں اور کرفیوں کے باوجود ساڑھے تین لاکھ افراد نے شرکت کی ۔چند دنوں میں 40جنازے مزید بھی ہوئے جن میں ہزاروں کشمیری عوام نے شرکت کی ۔سید علی گیلانی اور دیگر قائدین کو بار بار گرفتار اور نظر بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔حالیہ دنوں میں بھارتی افواج نے اسرائیل کے بنے ہو ئے ہتھیاربھی استعمال کیے ہیں ۔جن میں پیلٹ گن بھی شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کے باعث 125افراد بینائی سے محروم ہوگئے ہیں ۔ربڑ کوٹیڈ گولیوں کے استعمال سے لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہورہے ہیں۔لیکن کشمیری عوام بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں ہیں۔ کشمیریو ں نے بھارت کی غلامی ایک دن کے لیے بھی قبول نہیں کی ہے ۔ہر کشمیری بھارت سے آزادی چاہتا ہے ۔ پوری وادی میں آزادی کے ترانے اور پاکستان زندہ آباد کے نعرے گونج رہے ہیں اور پاکستان کے قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے مہم شروع کی ہوئی ہے اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر 15اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر کی طرح پاکستان میں بھی یوم سیاہ منایا جائے گا جبکہ 15اگست کو مظفر آباد تا چکوٹھی ایک بڑا اور بھرپور آزادی مارچ کیا جائے گا۔

حصہ