ہانگ کانگ: احتجاج کے باعث مسودہ قانون پر بحث پھر ملتوی

40

ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) ہانگ کانگ کی پارلیمان نے مشتبہ افراد کو چین کے حوالے کرنے کے مجوزہ قانون پر بحث ایک بار پھر ملتوی کردی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کے روز ایک بار پھر بڑے مظاہروں کے آغاز کی وجہ سے متنازع بل التوا کا شکار ہو گیا، اس موقع پر ہزاروں مظاہرین نے مجلس قانون ساز کو گھیر لیا، جس پر کونسل بحث ملتوی کرنے پر مجبور ہوئی۔ مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے، جو پولیس کی جانب سے منتشر کیے جانے کے بعد کئی مقامات پر دوبارہ جمع ہوئے احتجاج کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ متنازع مجوزہ قانون کو واپس لیا جائے۔ اس سے قبل بدھ کے روز مظاہرین اور پولیس میں تصادم کے دوران آنسو گیس سمیت طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پولیس سمیت کوئی بھی طاقت استعمال کر لی جائے، مظاہرین اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بل کی مخالفت جاری رہے گی۔ دوسری جانب مجوزہ قانون اور اس کے خلاف ہونے والے بڑے مظاہروں پر عالمی سطح پر تشویش کاظہار کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے یورپی یونین نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہانگ کانگ انتظامیہ کو شہریوں کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ یونین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ متنازع بل پر اٹھائے گئے اعتراضات جائز ہیں۔ اُدھر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی ایک بیان میں ہانگ کانگ انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ شہریوں کے مطالبات اور احتجاج کے حوالے سے اپنی قانونی ذمے داری پوری کریں، جس سے لوگوں کو اپنی بات آزادی کے ساتھ کہنے کا موقع ملے۔ ا س سے قبل اقوام متحدہ کے دفتر برائے انانی حقوق نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ فریقین پرامن طریقے سے اپنا موقف سامنے لائیں اور ہانگ کانگ کے حکام مجوزہ قانون پر شفاف اور اجتماعیت پر مبنی بحث کا آغاز کریں۔ واضح رہے کہ ہانگ کانگ کی بیجنگ کی جانب جھکاؤ رکھنے والی حکومت ایک قانونی مسودے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت مستقبل میں ہانگ کانگ سے ملزموں اور مجرموں کو بیجنگ حکومت کے حوالے کیا جا سکے گا، تاہم اس کے ردعمل میں بڑے اور پرتشدد عوامی مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔