برطانیہ ،حکومت اپوزیشن مذاکرات ناکام ،بریگزٹ مزید گھمبیر

107

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی سے متعلق معاہدے پر حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد بریگزٹ کا معاملہ مزید گمبھیر ہوگیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اپنی ہی جماعت ’’کنزرویٹو‘‘ کے بیشتر ارکان کی جانب سے بریگزٹ معاہدے کی مسلسل مخالفت کے بعد حزبِ اختلاف کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے تاکہ مجوزہ معاہدہ پارلیمان سے منظور کرایا جاسکے تاہم جمعہ کے روز لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے ایک خط کے ذریعے وزیر اعظم کو مطلع کیا ہے کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان 3 اپریل کو جو مذاکرات شروع ہوئے تھے وہ مزید آگے نہیں بڑھ سکتے۔ قائدِ حزبِ اختلاف نے لکھا ہے کہ تھریسا مے کی حکومت عدم استحکام کا شکار ہے اور بریگزٹ کے معاملے پر اپنا موقف تبدیل کرنے سے انکاری ہے جس کے باعث اس سے مزید بات چیت جاری رکھنا لاحاصل ہوگا۔ جیریمی کوربن کے بقول فریقین مذاکرات کے ذریعے پالیسی اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اگر کسی بات پر اتفاق ہو بھی گیا تو حکومت کی کمزوری اور عدم استحکام کے باعث یہ کہنا مشکل ہے کہ ان امور پر عمل درآمد بھی ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد لیبر پارٹی کے ارکان بھی پارلیمان میں تھریسا مے کے تجویز کردہ بریگزٹ معاہدے کی مخالفت میں ووٹ دیں گے۔دوسری جانب وزیر اعظم نے الزام لگایا ہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے معاملے پر ایک اور ریفرنڈم کرانے یا نہ کرانے پر لیبر پارٹی میں موجود اختلافات کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔ برطانوی پارلیمان بریگزٹ کے اس معاہدے کو 3 بار مسترد کرچکی ہے جس پر تھریسا مے کی حکومت نے کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد یورپی یونین کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔ مجوزہ معاہدے کو بعض تبدیلیوں کے بعد چوتھی بار آیندہ ماہ پارلیمان کے سامنے پیش کیا جانا ہے جس سے قبل وزیر عظم تھریسا مے اس کی منظوری کے لیے درکار ووٹوں کا حصول یقینی بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی ہیں۔