بدین،پانی چوری و قلت کیخلاف ضلع بچاؤ کمیٹی اور آبادگاروں کی اپیل پرشٹربند ہڑتال

224

بدین، تلہار(نمائندگان جسارت)سندھ حکومت کی تشکیل کمیٹی کے پہلے اجلاس کے موقع پر بدین میں عام ہڑتال، دس ماہ سے جاری نہری پانی کی قلت اور پانی چوری کے خلاف ضلع بچاؤ کمیٹی اور کاشتکاروں کی اپیل پر ضلع بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہہ جام ہڑتال احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے گئے ۔گزشتہ دس ماہ سے ضلع بدین میں نہری اور پینے کے پانی کی مصنوعی قلت اور نہری پانی چوری کے خلاف ضلع بدین میں کاشت کاروں اور ضلع بچاؤ کمیٹی کی اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہڑتال کے باعث بدین تلہار ٹنڈوباگو گولارچی پنگریو کڑیو گھنور، سیرانی، کڈھن اور دیگر شہروں اور قصبوں میں کاروباری مراکز بند رہے۔ آبادگاروں اور شہریوں کی جانب سے اس موقع پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور دھرنا دے کر روڈ بلاک اور احتجاج بھی کیا گیا جس کے باعث سڑکوں سے ٹریفک غائب رہی جبکہ تھرپارکر، کراچی، حیدرآباد کے روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کی عدم دستیابی کے باعث مسافروں کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑادوسری جانب مسلسل پانی کی عدم دستیابی پر تحریک اور احتجاجی مہم کو شروع ہوئے تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ آبادگار اور شہری سرپا احتجاج ہیں جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے پانی کی قلت اور چوری کے خاتمے کے لیے آبپاشی ماہر ادریس راجپوت کی سربراہی میں کمیٹی کی تشکیل کے علاوہ کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ سندھ حکومت کی جانب سے پانی کی قلت اور چوری کے مسئلہ اور تنازع کے حل کے لیے آبپاشی ماہر ادریس راجپوت کی سربراہی میں تشکیل کمیٹی کا اجلاس دربار ہال بدین میں ہوا۔ اجلاس میں ڈی سی بدین محکمہ انہار اور سیڈا کے افسران کے علاوہ پروفیسر مشتاق میرانی کمیٹی اراکین آبادگار رہنماں عزیز اللہ ڈیرو میر نور احمد ٹالپور خلیل بھرگڑی خدا ڈنو شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں آبادگار نمائندوں نے پانی کی مسلسل جاری قلت پانی چوری پانی کی غلط تقسیم سیڈا کے وسپ پروجیکٹ کے خلاف شکایات تحفظات خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے ساحلی اور ٹیل کے علاقوں میں زرعی معیشت کے نقصانات پینے کے پانی کی تلاش میں متاثرہ افراد اور مال مویشیوں کی نقل مکانی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے پانی کی قلت نہری پانی کی چوری اور غلط تقسیم کے خاتمے سیڈا کے وسپ پروجیکٹ میں پائے جانی ولی خامیوں اور ریگولیٹر کے کراس کے غلط ڈازئین کو درست کر کہ پانی کی مکمل فراہمی کو یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا اور مطالبہ گیا کہ 6 ماہ چلنے والی نہروں میں وارہ بندی کے تحت پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قانونی شکل دی جائے کیونکہ ریاست اور حکومت ہر شہری کو پینے کا پانی مہیا کرنے کی پابند ہے کیونکہ ساحلی اور ٹیل کے علاقوں میں زیرزمین پانی کھارا نمکین اور مضر صحت ہے ۔علاقے کی سو فیصد انسانی آبادی مال مویشی چرند پرند کا انحصار نہری پانی پر ہے۔اس موقع پر محکمہ انہار اور سیڈا کے افسران نے ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری وسپ پروجیکٹ کو ایک کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا اس منصوبے سے نہروں میں پانی کی فراہمی کی گنجائش میں تیس فی صد اضافہ ہو گا اس معیاری منصوبے کی عمر سو سال ہے پانی کی قلت کی وجہ یہ منصوبہ نہیں ہے دریا اور سسٹم میں پانی کی کمی ہے جس کے باعث یہاں کی نہروں میں پانی کی قلت ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے سربراہ ماہر آبپاشی ادریس راجپوت نے کہا ان کو جو ذمے داری دی گئی ہے وہ ایمانداری سے اپنا فرض سمجھ کر پورا کریں گے۔ نہری پانی کی قلت چوری غلط تقسیم کی شکایات آبادگاروں کے تحفظات مشوروں تجویزات کو حکومت کو آگاہ کیا جائے گا اور سیڈا کے وسپ پروجیکٹ کی اسٹیڈی کی جائے گی اور جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا اور شکایات اور تحفظات کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔اس موقع پر کمیٹی کا اجلاس 23 ایریل کو دوبارہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیاجبکہ آبادگار اراکین نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ حکومت محکمہ انہار اور سیڈا پانی کی قلت چوری اور رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے مخلص اور سنجیدہ نہیں اور نہ ہی ہم کو ان سے کوئی امید دکھائی دے رہی ہے۔ ہم اپنے مقصد اور حقوق کے لیے احتجاجی تحریک اور مہم جاری رکھیں گے اور انصاف کے لیے عدلیہ سے بھی رجوع کر رہے ہیں۔