عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے ساتھ ہیں،سمجھوتا نہیں ہوگا،عمران خان 

112
لاہور: وزیراعظم عمران خان پناہ گاہ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں
لاہور: وزیراعظم عمران خان پناہ گاہ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک+خبر ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی تو ملک نہیں رہتا، کیونکہ ایسے میں ملک سے قانون کی ہی حکمرانی ختم ہوجاتی ہے،حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا،ملک بحران سے نکل گیا ہے ، اسے دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔صوبائی دارالحکومت میں شیلٹر ہوم کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ سابق حکمرانوں نے لاہورمیں بادشاہت کا تاثر قائم کردیا تھا۔ ہم نے انتہائی پسماندہ علاقے سے وزیر اعلیٰ بنا کر اس تاثر کو یکسر ختم کردیا ہے۔کتنا بے رحم ہے وہ معاشرہ جہاں لوگ کھلے آسمان تکے بے آسرا رات گزاریں اور حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی
گزاریں۔ ہم نے احساس پر مبنی معاشرے کو تشکیل دینا ہے۔ احساس اوررحم کے جذبے کے تحت شیلٹرہوم بنانے کا فیصلہ کیاہے۔ مفلس لوگوں کو دیکھ کر جس کے دل میں رحم نہ آئے وہ انسان ہی نہیں جبکہ رات کو کھلے آسمان تلے سونے والوں کے لیے لاہور میں 5 پناہ گاہیں قائم کی جائیں گی۔ ان پناہ گاہوں میں مکمل سہولیات میسر ہوں گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں غربت ختم کرنے کے لیے ایک پیکیج لے کر آئیں گے۔ پاکستان ایک ایسا ملک بنے گا جو دنیا میں مثال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں چلتی رہتی ہیں لیکن فلاحی منصوبوں پر کام کرنے سے خوشی ہوتی ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والے یہ لوگ زیادہ تر داتا دربار اور ریلوے اسٹیشن کے ارد گرد کے علاقوں، اچھرہ اور چوبرجی وغیرہ کے قریب دیکھے جا سکتے ہیں۔ان لوگوں کی اکثریت کو بنیادی سہولتوں مثلاً صاف ستھرا ہونے، کپڑے دھونے،محفوظ طو رپر رات گزارنے اور ابتدائی طبی امداد کے لیے موزوں جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ “پناہ گاہ ” کے رہنما اصولوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ بے آسرا لوگوں کی عزت نفس کی بحالی، ضرورت مند لوگوں کی ضرورت پوری کرنا۔ محفوظ جگہیں قائم کرنا۔ انہیں لاحق خطرات کم کرنا۔شہریوں اور ریاست کی سماجی ذمے داری کا دائرہ وسیع کرناشامل ہیں۔ پناہ گاہ کی عمارت کا ڈھانچا اورڈیزائن کے متعلق بتایاگیا کہ جگہ کابہترین استعمال یقینی بنانا جہاں تمام سہولتیں علیحدہ علیحدہ ہوں۔ سادگی اور بہتر کارکردگی یقینی بنانے کے لیے جدید اور بنیادی ڈیزائن کا استعمال۔سماجی مقاصد مثلاً اہم امور پر تربیتی او رآگاہی کے پروگرام منعقد کرنے کے لیے کثیر المقاصد ہالز کی تعمیرکی جائیں گی۔تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نہایت خوشگوار موڈ میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں آتے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک کے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے اڑھائی ماہ لگ گئے۔ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے اور اب ملک بحران سے نکل گیا ہے جب کہ ہم وسائل نہیں احساس کی کمی کاشکار ہیں۔احساس اور رحم کے بغیر کوئی معاشرہ مکمل نہیں ہوسکتا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک میں قانون کی بالادستی چاہتی ہے۔ قانون کی حکمرانی عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے سے ممکن ہے لہٰذا عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پرمکمل عمل درآمد ہوگا۔ حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کرپشن سے متعلق بات کروں گا اور ایسی گفتگو ہوگی جس کوآپ انجوائے کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.