چودہ اگست کی ڈائری

60

عروبہ عثمان

14اگست کو ہمیشہ کی طرح ہم سب نے جشن آزاددی منایا ۔ مجھے یقین ہے کہ آزادی کے اس جشن کو آپ نے بھی منایا ہو گا ۔ اپنے گھر کی چھت ،دفتر یا گاڑی پر ضرور قومی پرچم لہرایا ہوگا ۔ یہ نہیں تو کم از کم ڈوری میں جھنڈیاں پرو کر بچوں کے ساتھ مل کر گھر کے اندر کہیں ضرور لگائی ہوں گی ۔ یوم آزادی پر میں نے سب سے پہلے اپنی فیس بک پر DP تبدیل کی جس میں میری تصویر کے پس منظر میں پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھااور پھر فوراً ہی اسٹیٹس ڈالا جس کو اس شعر کی وجہ سے بہت ’’لائیکس‘‘ ملے ۔
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے… زندگی
آخر کو میں ایک محب وطن پاکستانی ٹھہرا ۔ بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر گھر کو جھنڈیوں سے پہلے ہی سجا لیا تھا ۔ اور شاپنگ بھی اس کی مناسبت سے خوب کر لی تھی ۔ یعنی ہرے اور سفید رنگ پر مشتمل چند شرٹس ، سوٹ ، بیج ، ہاتھوں کے بینڈ ز، کیپ وغیرہ ۔ غرض کوشش کی تھی کہ ہمارا رواں رواں حب الوطنی کا ثبوت دے رہا ہو۔ پھر یاد آیا کہ Port grand پر ہونے والے آزادی فیسٹیول میں’’ عمیر جوال اور عاصم اظہر ‘‘کو بھی تو آنا ہے اور سا کنسرٹ کی بکنگ تو ابھی رہ گئی تھی ۔ تو پھر جلدی جلدی فfb کے ’’ ایونٹ پیج پر جا کر 1500 روپے فی فرد 6 ٹکٹس بک کروائیں کہ میرے دوسروں نے یہ ذمہ داری مجھے سونپ رکھی تھی پھر واٹس ایپ گروپ میں دوستوں کو آگاہ کیا اور خوب تیاری کے ساتھ گھر سے نکل پڑے ۔
گلی پٹاخوں کی ٹھو ۔ ٹھا ہ سے گونج رہی تھی اور فائرنگ؟ وہ تو رات 12 بجے ہی اتنے شاندار طریقے سے ہوئی تھی کہ پڑوس کی بزرگ دل کی مریضہ خاتون کی طبیعت بگڑگئی اور انہیں اسپتال لے جانا پڑا ۔ افسوس بہت ہوا ۔ خیر اب بغیر سائیلنسر والی بائیکس پہ ہم سب دوست آزادی کا جشن منانے نکل پڑے کہ کہیں کنسرٹ پہنچنے میں دیر نہ ہو جائے ۔ مگر ذرا سا آگے ہی ٹریفک جا م ملا ۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ آزادی کی ایک تقریب کی وجہ سے VIP موومنٹ ہے ۔ ٹریفک بند ہے ۔ ہمارے ساتھ میں ایک ایمبو لینس بھی ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھی جس میں ایک مریض کراہ رہا تھا ۔
صبح ہی نیو ز چینلز پر ایوانِ صدر میں ہونے والی جشن آزادی کی کیک کاٹ کر سالگرہ منانے کی تقریب دکھائی گئی تھی ۔ کیا زبر دست کیک تھا کوئی 500 پونڈ کا ۔ ہمارے آزادی فیسٹیول میں بھی کیک کاٹا جانا تھا ۔ ہم نے متبادل راستہ ڈھونڈ کر بائیک اس پر ڈال دی ۔ وہاں تو وہ طوفان بد تمیزی مچا ہوا تھا کہ بس ۔ جیسے سالہا سال قید میں رہنے والوں کو گاڑیاں اور بائیکس دے کر سڑکوں پر نکال دیا گیا ہے ۔بڑی مشکل سے فیسٹیول میں پہنچے ۔ پھر خوب ہلہ گلہ کیا ۔ ایک محب وطن پاکستانی کی طرح نہایت جوش و جذبے کے ساتھ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے تان میں تان ملا کر ملکی نغمے گائے اور خوب’’ سیلفیز‘‘ لیں ۔
پوری رات کے جشن کے بعد صبح کے قریب گھر پہنچے تو دیکھا ہماری چھت بھی لگی جھندیاں تیز ہوا کے باعث بکھری پڑی تھیں ۔بہت افسوس ہوا ۔ ہم تو اتنا تھک چکے تھے گھر کے اندر جانے ہی والے تھے کہ دیکھا کچرا چننے والا شخص نہایت عزت و احترام سے ان جھنڈیوں کوسمیٹ کر چوم کر اپنی پھٹی ہوئی قمیص کی ادھڑی جیب میں تہہ کر کے رکھ ر ہا تھا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.