انتخاب جیتنے کے بعد بھی آپ کے درمیان رہوں گا،حافظ نعیم کا عوام سے وعدہ

74
کراچی: مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ’’علما کنونشن‘‘ سے مفتی یوسف قصوری، حافظ نعیم و دیگر خطاب کر رہے ہیں
کراچی: مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ’’علما کنونشن‘‘ سے مفتی یوسف قصوری، حافظ نعیم و دیگر خطاب کر رہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے امیر ، متحدہ مجلس عمل کراچی کے صدر و نامزد امیدواراین اے 250 و پی ایس 129انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے اپنے حلقہ انتخاب پی ایس 129نارتھ ناظم آبادکے مختلف بلاکس کا دورہ کیااور عوام سے ملاقات کی، نارتھ ناظم آباد کے مکینوں نے حافظ نعیم الرحمن کا بھر پور خیر مقدم کیا اور ان کو یہ یقین دلایا گیا کہ 25جولائی کو ان عناصر کو ووٹ نہیں دیں گے جنہوں نے شہر کوتباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے علاقہ مکینوں کی جانب سے حمایت اور تعاون کا شکریہ ادا کیا اوروعدہ کیا کہ انتخابات جیتنے کے بعد بھی وہ ان کے درمیان ہوں گے اور ان کو ہر گز مایوس نہیں کریں گے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے ووٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نارتھ ناظم آباد کے لاکھوں مکینوں کو پانی اور سیوریج سمیت دیگر مسائل سے نجات دلائیں گے ۔ ماضی میں علاقے سے ووٹ لے کر منتخب ہونے والوں نے حکومت اور اقتدار کے مزے تو لیے لیکن علاقے کے عوام کے بنیادی اور دیرینہ مسائل حل نہیں کیے ۔ عوام دھوکا دینے والوں کو مسترد کر دیں اور ’’کتاب‘‘ پر مہر لگا کر مجلس عمل کو کامیاب بنائیں ، مجلس عمل کی کامیابی کراچی کے شہریوں کے روشن اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہو گی۔ ہم ماضی کی طرح عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صرف عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان کے دور میں ہی کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کے منصوبے مکمل کیے گئے ۔ فاروق ستار ، مصطفےٰ کمال اور اس کے بعد کسی بھی مقامی حکومت یا صوبائی حکومت نے کراچی میں پانی کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا ۔ عبد الستار افغانی نے حب ڈیم سے 165ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔ پھر نعمت اللہ خان نے کے تھری منصوبہ بنایا اور اسے مکمل کر کے 100ملین گیلن یومیہ اضافی پانی کی فراہمی شروع ہوئی ۔کے فور منصوبہ بھی انہوں نے بنایا جسے 4سال میں مکمل ہو نا تھا اس کے 3 فیز کی تکمیل کے بعد 650ملین گیلن یومیہ پانی کراچی کو ملنا تھا مگر افسوس کہ ان کے بعد کی شہری حکومت اور صوبائی حکومت نے کے فورکے منصوبے کو مسلسل تعطل کا شکار رکھا اور یہ منصوبہ اپنی اصل لاگت 16ارب سے بڑھ کر 50ارب تک پہنچ گیا مگر ابھی تک مکمل نہ ہو سکا ۔ اسے تعطل کا شکار کر کے کراچی کے عوام سے بڑا ظلم اور زیادتی کی گئی اور یہ ظلم اور زیادتی کر نے والے آج ایک بار پھر عوام سے ووٹ مانگنے آگئے ہیں ۔ ان کو اگر پانی کا مسئلہ حل کر نا ہو تا تو یہ پہلے ہی کر چکے ہو تے ۔ یہ عوام کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔ عوام اب ان کے اصل چہروں کو پہچان چکے ہیں اور بہت جلد ان کا بوریا بستر گول ہونے والا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ