یا اُولی الا بصار

167

عنایت علی خان

جو لوگ خدا اور اس کے بتائے ہوئے طریقوں کو چھوڑ کر اور طاغوت، یعنی خداکے مقابلے میں اپنی خدائی یعنی اقتدارِ مطلق کے عملاً مُدّعی اور خدائی نظام کے بدلے اپنے استحصالی نظام حیات کو خدا کے بندوں پر مسلط کرنے والے افراد کو اپنا کار فرما سمجھ کر ان کا قلادہ اطاعت اپنے زیب گلو کرنے ہی کو اپنی بقا و فلاح کی ضمانت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ وہ کچھ وقت تو طاغوت کی حاشیہ برداری کے سبب ہمچوما دیگرے نیست کے بھرے میں آکر اکڑ فوں دکھاتے ہیں لیکن پھر اس طرح اللہ کی پکڑ میں آتے ہیں کہ جریدہ عالم میں حرف عبرت بن جایا کرتے ہیں۔ پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ بعد میں آنے والے اُن کے مقلدین اُن عبرت آموز شخصیات سے درس عبرت لینے کے بجائے خود درس عبرت بن جاتے ہیں اور تاریخ میں عاقبت نا اندیشانہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔
درج بالا بیانیے کی مثال آج سعودی مقتدر اعلیٰ شخصیت شہزادہ محمد بن سلمان کی ہے جس نے اپنے گلوگیر پھندے کو اس حد تک کس لیا تھا اور موجودہ دور کی طاغوتی قوت امریکا کی غلامی میں وہ سرشاری دکھائی تھی جیسے کوئی مسمرائزڈ شخص خود کو کلتہً اپنے عامل کے سپرد کردیتا ہے۔ پہلے تو اپنے آقا کی پشت پناہی کے زعم میں مملکت کے سیاہ سفید کا اختیار خاندانی روایت کے خلاف (جس کے تحت اس کے بادشاہ بننے کا دور دور امکان نہیں تھا) ببانگ دہل اعلان فرمایا کہ مجھے بادشاہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا اور لملک الیوم کے اس متکبرانہ نعرے کے ساتھ ٹرمپ کی فرقہ وارانہ اسکیم کے تحت نام نہاد اسلامی فوج تشکیل دی، راقم نے تو اس وقت کہا تھا ؂
فضول کھیل رہا ہے ٹرمپ یہ تاش کا کھیل
شکست اس کی تو لازم بلا دلیل کے ہے
ہوں اس کے ہاتھوں میں کتنے ہی بادشاہ مگر
ٹرمپ کارڈ تو ہاتھوں میں اسرائیل کے ہے
دوسری جانب اس سعودی معاشرے کو جو اپنے اسلامی مزاج کے تحت عالم اسلام میں ایک مثال کے طور پر فخر سے دیکھا جاتا تھا اس کی کایا اس طرح پلٹنے کے اقدامات کیے کہ اہل درد چیخ اُٹھے:
چو کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی
شاہی محل میں کیا ہوا، کیا نہیں ہوا اس کے بارے میں افواہیں زیادہ ہیں۔ تاہم محمد بن سلمان کئی دن منظر سے غائب رہے۔
حالات نے زبان حال سے کہا ؂
اچھا نہو یقین تو کشتی ڈبو کے دیکھ
اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے
جس طرح اسرائیل سے پینگیں بڑھائی جارہی تھیں، سینما ہاؤس کھل رہے تھے بھارت کو سعودیہ کی فضاؤں سے گزر کر اسرائیل تک رسائی دی جارہی تھی، جملہ مقتدر شخصیات کو جبری نظر بندی میں ستر فی صد سرمایہ نذر گزارنے پر مجبور کیا جارہا تھا اور ٹرمپ کی اندھی تقلید کی جارہی تھی۔ ظاہر ہے یہ تمام اقدام شریعت مطہرہ کے منافی تھے تو جس اللہ نے اپنے کعبے کو ابرہہ کے حملے سے بچایا تھا اس کے لیے ان اقدام کو کالعدم کرانا کیا مشکل ہے۔ (اُمید ہے ایسا ہی ہوگا) گو ابھی تک مجوزہ شاہ کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع نہیں ملی ہے۔ معاملہ مبہم ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ