صنعتکاروں اورتاجروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائیگا ،وزیر اعظم پاکستان 

146
وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی میاں انجم نثار کی قیادت میں بزنس مین پینل کے وفد سے ملاقات کررہاہے
وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی میاں انجم نثار کی قیادت میں بزنس مین پینل کے وفد سے ملاقات کررہاہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) فیدریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بزنس مین پینل کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے نامور صنعتکاروں پر مشتمل وفد نے میاں انجم نثار چیئرمین بزنس مین پینل پاکستان کی سربراہی میں وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی۔میاں انجم نثار نے کہا کہ ملک میں معاشی خوشحالی اور صنعت کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع پالیسی کی فوری ضرورت ہے ٹریڈ پالیسی کو بھی از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے چونکہ ہماری برآمدات پچھلے تین سالوں سے گراوٹ کا شکار ہیں جبکہ اس عرصے میں ہمارے ہمسایہ ملک بنگلا دیش کی برآمدات 24 سے 36 بلین ڈالر تک آگئی ہیں۔ تجارتی خسارہ بھی خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم لوگوں کی بھیجی ہوئی محصولات زر بھی شامل کریں تب بھی تجارت خسارہ 15 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار بزنس مین پینل کے قائدین نے میاں انجم نثار کی قیادت میں پاکستان بھرسے آئے ہوئے رہنماؤں پر مشتمل وفد کے ہمراہ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے دوران کیا۔ میاں انجم نثار نے کہا کہ ہم حکومت کے مسائل کو سمجھتے ہیں اور ہر مشکل گھڑی میں حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ا ور تمام ایشوز کو مل بیٹھ کر مشاورت کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں۔ تاجر برادری ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں پہلے ہی اپنا فرض ادا کر رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت بزنس کمیونٹی کے مسائل کو بھی سمجھے اور ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔پچھلے ماہ ریگولیٹری ڈیوٹی چیمبرز کی مشاورت کے بغیر نافذکر دی گئی جس سے صنعتی خام مال کی قیمتیں بڑھنے سے پیداواری لاگت جو کہ خطے میں پہلے ہی زیادہ ہے اس میں مزید اضافے کا باعث بنی ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تناظر میں بات کرتے ہوئے میاں انجم نثار نے کہا کہ لوکل انڈسٹری کو بھی فارن انویسٹرز کے طرز پر سہولیات دی جائیں ورنہ مقامی انڈسٹری تباہ ہو جائے گی ۔سی پیک کے تحت ا سپیشل اکنامک زونز کو چالو کیا جائے تاکہ صنعتوں کو وسعت دی جا سکے ۔ بزنس مین پینل کے چیئرمین نے وزیراعظم کی توجہ ریفنڈز ادائیگیوں کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو ہدایت کی جائے کہ ریفنڈز جلد از جلد ادا کیے جائیں تاکہ کیش فلو رکنے سے انڈسٹری میں جمود کی صورتحال ختم ہو سکے اور صنعتوں کا پہیہ بلا تعطل چلتا رہے۔ وعدوں کے باوجود بزنس کمیونٹی کے 250 ارب تک کے ریفنڈز واجب الادا ہیں۔پچھلے تین سال سے اقتصادی گروتھ سست روی کا شکار ہے میاں انجم نثار نے کہا کہ ہم نے مل کر ملک کے معاشی حالات کو درست کرنا ہے ۔ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو خوشحال پاکستان دینا ہے جس کے لیے خود بھی سخت محنت کرنا ہوگی اور پوری کاروباری برادری میں انقلابی روح اور جذبوں کی حدت پیدا کرنی ہے ۔میاں انجم نثار نے کہا توانائی کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرایا جائے ۔ملک کے کارخانے ملیں اور فیکٹریاں دن رات چلیں گی اور ملک میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور معاشی خوشحالی ہو گی۔ میاں انجم نثار نے کہا کہ ملک میں LNG کے آنے سے بہتری آ رہی ہے جس سے انڈسٹری میں جان آ رہی ہے صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی سے ہی حکومت کا صنعتی ترقی کا ویژن مکمل ہوگا انڈسٹریز کو مسلسل بجلی کی فراہمی سے ملکی پیداوار اور گرتی برآمدات کو سہارا ملے گا ۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگیاں نہ ہونے سے برآمد کنندگان سخت مشکلات کا شکار ہیں ان کی فوری ادائیگی کی جائے ۔اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے بزنس مین پینل کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بزنس کمیونٹی کی بدولت ہی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے ،حکومت بزنس کمیونٹی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور تاجروں کے جو بھی مسائل ہیں انھیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ حکومت سی پیک کے تناظر میں چائینیز کاروباری طبقہ کو کو مراعات دے رہی ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہیں صرف ان لوگوں کو کچھ مراعات دی جا رہی ہیں جو اپنی انڈسٹری کو چین سے پاکستان منتقل کر رہے ہیں چونکہ چین میں پیداواری لاگت بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کوبھی اختیار دیا گیا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کو حل کیا جائے اس موقع پر انھوں نے کامرس منسٹر پرویز ملک سے کہا کہ چیمبرز آف کامرس کے پلیٹ فام سے کاروباری طبقہ سے رابطے میں رہیں اور بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے مسائل کو حل کیا جائے۔ میٹنگ میں کامرس منسٹر پرویز ملک ، معاشی امور پر وزیراعظم کے مشیر مفتاح اسماعیل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر فواد حسن فواد، سیکرٹری ٹیکسٹائل حسن اقبال، نائب صدر ایف پی سی سی آئی رشید پراچہ ، چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ ، فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ شاہ زیب اکرم،پی بی آئی ایف کے چیئرمین میاں زاہد حسین، لاہور گوادر، مکران ، چترال، ڈی آئی خان، دادو اور فاٹا چیمبرز آف کامرس کے صدور، شوگر ایسوسی ایشنز کے نمائندے سابق نائب صدور ایف پی سی سی آئی عدنان جلیل، ریاض خٹک، میاں شوکت، سابق صدر ایف پی سی سی آئی زکریا عثمان، ایف پی سی سی آئی ریجنل ا سٹینگ کمیٹی کے چیئرمین احمد جواد، سابق صدر مردان چیمبر قیصر خان دادوزئی و دیگر نے میٹنگ میں شرکت کی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ