پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان نیا اسٹریٹجک منصوبہ طے پا گیا

33

 

برسلز (اے پی پی) پاکستان اور یورپی یونین کے مابین نیا اسٹریٹجک باہمی تعاون منصوبہ پر معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے پر دستخط کی پروقار تقریب منگل کو برسلز میں منعقد ہوئی۔ یورپی یونین کی جانب سے ان کی اعلیٰ نمائندہ فیڈریکا موگرینی نے جبکہ پاکستان کی طرف سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے معاہدے پر دستخط کیے۔ نئے ا سٹرٹیجک پلان کے بعد یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار فیڈریکا موگرینی کے
ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں بے حد مسرور ہوں کہ آج پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) نے ’’ اسٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان‘‘ پر دستخط کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، یورپی یونین اور اس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ یورپی یونین ہماری روایتی حلیف، تجارت اور سرمایہ کاری میں پاکستان کی بڑی شراکت دار ہے۔ ہمارا تعاون جمہوری اقدار، کثیرا لشراکتی، باہمی ہم آہنگی اور احترام کی مشترک اقدار پر مبنی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ہم نے پاکستان اور یورپی یونین کی شراکت کو تزویراتی انگیجمنٹ پلان (ایس ای پی) کی صورت میں ترقی دی ہے۔ وزیر خارجہ نے دونوں جانب سے سٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ایس ای پی مختلف شعبہ جات میں ہمارے تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک طویل المدتی عزم ہے۔علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبر دار کیا ہے کہ ایران میں کسی قسم کے عدم استحکام سے پاکستان کی سیکورٹی اور افغانستان میں جاری امن عمل پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت جنوبی ایشیاء میں اسٹریٹجک توازن بگاڑ اور علاقائی سلامتی کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ افغانستان میں بھارت کی بڑھتی اسٹریٹجک مداخلت پاکستان کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن و سلامتی قائم ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں اپنے تجربات اور مہارت یورپی یونین کے ساتھ بانٹنے کو تیار ہیں۔ پاکستان کو دہشت گردی کے بنیادی خطرات کا اب بھی سامنا ہے جن میں دہشت گردوں کو بنیادی طورپر مالی معاونت، سہولت اور منصوبہ سازی بیرون ملک سے ملتی ہے۔ پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے پوری طرح پرعزم ہے تاہم افغانستان میں قیام امن تمام ملکوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے اجتماعی اور باہمی طورپر قابل قبول شراکت اقتدار کا فارمولہ ہی قومی اتحادی حکومت کی راہ ہموار کرے گا۔ افغانستان میں عدم استحکام کا پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ پاکستان امن کی بہتری اور باہمی احترام، خودمختاری کے یکساں احترام اور باہمی مفاد میں بھارت سمیت تمام ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو برسلز میں یورپی یونین کی سیاسی وسلامتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔ یورپی یونین نہ صرف پاکستان کا ایک روایتی حلیف ہے بلکہ ایک معاشی شراکت دار بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کی اعلیٰ نمائندہ فیڈریکا موغرینی اور میں نے ’’سٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان‘‘ پر دستخط کیے۔ ’’ایس ای پی‘‘ سے ہمارے تعلقات میں ایک نیا معیاری مرحلہ آئے گا اور ہمہ جہت تعاون کے فریم ورک کے ذریعے یہ شراکت داری مزید گہری ہوگی۔ جامع سیکورٹی ڈائیلاگ کے ذریعے امن وسلامتی میں شراکت داری اس حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے سب کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں لیکن معیشت کا سہارا لے کر احتساب سے فرار اختیار نہیں کرنے دیں گے۔ پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز ہمیں ورثہ میں ملے ہیں۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت بہت سے یورپی دوست ممالک پاکستان کی بلیک لسٹنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ بات انہوں منگل کو برسلز میں یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
برطانیہ سے معاہدہ