چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کر چلے

155

 

راشد منان

سندھ اسمبلی میں ایم ایم اے کے واحد رکن جن کا تعلق ملک کی سب سے منظم جمہوری روایت کی حامل جماعت جماعت اسلامی سے ہے کو جس طرح گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران میں پی ٹی آئی کے سلیکٹڈ ارکان اسمبلی جن کی غنڈہ گردی اب عروج پر ہے اور جنہیں ایم کیو ایم کے متبادل کے طور پر لایا گیا ہے نے زد وکوب کیا انہیں دھمکی بھی دی گئی کہ باہر بھی تمہاری خبر لیں گے اس امر پر ملک کے تمام سنجیدہ طبقے بشمول سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جماعت اسلامی کو اس غنڈہ گردی کے خلاف اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرنا ہی تھا تاہم جماعت اسلامی کو اس واقعے کے خلاف اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان بھی کرنا چاہیے اور جو بھی قانونی کارروائی ممکن ہو اس کو رو بہ عمل لانے میں کسی قسم کے پس وپیش سے اجتناب اور اپنی رواداری اور نرم پالیسی کو پس پشت رکھ کر ان نو مولود غنڈوں کے خلاف کارروائی کے تمام آپشن استعمال کرنا چاہیے کیوں کہ ماضی میں ہم نے معاشرتی اقدار اور اپنی رواداری کی بناء پر ایم کیو ایم کے ہاتھوں بڑی آزمائشوں اور ہزیمتوں کا سامنا کیا ہے اور اسی کراچی شہر میں ایک ہی دن میں اپنے رفقاء کی شہادتوں پر درجن سے زاید جنازے پڑھے ہیں اس وقت قاضی حسین احمد نے ان شہادتوں پر اپنے ربّ کی بارگاہ میں جو مقدمہ درج کرایا تھا خدا کا شکر ہے کہ بارگاہ ربّ العزت نے اس کو پزیرائی بخشی اور اپنے بندہ خاص کے مقدمے کو سرخروئی عطا کی جس کے نتیجہ میں قاتل جماعت ایم کیو ایم آج کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہے اور جس قائد کی ایک آواز پر ہزاروں کے جلسے میں پن ڈراپ سائیلنٹ ہو جایا کرتا تھا آج اس قائد کی چیخ و پکار سننے کا بھی کوئی روادار نہیں ہے۔
آج کی حکمران جماعت پی ٹی آئی بھی اسی روش پر گامزن ہے مقتدر طاقتوں کو جب سندھ کے شہری علاقوں میں مذہبی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی کا خاتمہ مطلوب تھا تو انہوں نے ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی اور اس فارمولے کی کامیابی کے بعد ملک کی اکثریتی جماعت نواز لیگ کے لیے پی ٹی آئی کی تشکیل کی گئی ملک بھر سے چودھری، چوہان ٹلی اور دیگر جمع کرکے پی ٹی آئی کی جسمانی طاقت اور علیم خان، واڈا اور ترین جیسوں سے ان کو مادی غذا فراہم کی گئی پھر سب نے دیکھا کہ ڈی چوک کے دھرنے سے لیکر آج تک ان کی چرب زبانی گالم گلوچ مخالفین پر جھوٹے الزامات اور اوئے اور توئے کی سیاست کہیں نہ رکی 120 دن کے لاحاصل دھرنے سے جاری ان کی غنڈہ گردی حکومت میں آجانے کے بعد بھی نہ تھمی اور اس کا شکار صرف عام آدمی نہیں وہ بیورو کریٹس بھی ہیں جنہوں نے ان کو توانا کرنے میں اپنی قوتیں صرف کیں۔
رکن سندھ اسمبلی عبدالرشیدکے ساتھ ہونے والا واقعہ اسی کا شاخسانہ ہے مگر شاید ان کو یہ معلوم نہیں کے عبدالرشید کا تعلق اس جماعت سے ہے جس کے کارکنان اپنے ربّ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور وہ اس جماعت کا رکن ہے جو جھکنے اور بکنے والے نہیں جس کے جلو میں شہیدوں کا کارواں ساتھ سفر کرتا ہے اسلم مجاہد، لقمان بیگ، پرویز محمود، نذیر ساجد، ڈاکٹر نذیر اور دیگر شہداء نے جسے اپنے خون سے سینچا ہو جو پاکستان میں ہو تو اسلامی جمعیت طلبہ اور بنگلا دیش میں ہو تو اسلام چھاترو شبر کہلاتی ہو اور جو ڈھاکا یونیورسٹی پر سبز ہلالی پرچم کو اپنی آخری سانس تک سرنگوں نہ ہونے دے عبدالرشید اس قافلے کا راہی ہے جب اپنے ہتھیار ڈال رہے ہوں تو اس وقت وہ البدر اور الشمس کے رضا کار کی صورت مادر وطن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہوں عبدالرشید کا تعلق جس قبیلے سے ہے اس کے سرپرست اعلیٰ آقائے دوجہاں احمد مجتبیٰ محمد مصطفیؐ ہیں صدیق اکبر جس کے امیر فاروق اعظمؓ جس کی شان سیدنا عثمانؓ جس کے رہبر اور تلوارِ علیؓ جس کی ضامن ہے۔ حسنین سالار قافلہ مولانا مودودی جس کے روحانی باپ قاضی حسین احمد اور سراج الحق جس کے نگہبان ہیں جو بوقت ضرورت خالد کی للکار اور ٹیپو کی تلوار دونوں کا استعمال کے ہنر سے آگاہ ہو اور جو عبدالمالک کے نعرہ مستانہ کو کبھی نہ بھولی ہو۔
لہٰذا پی ٹی آئی کے زعما کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ان کے اوچھے ہتھکنڈوں سے عبدالرشید ڈرنے والا نہیں کیوں کہ اس کی پشت پر ایسے ہزاروں عبدالرشید اس کی ایک آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہیں اور عبدالرشید کو یہ باور کرانے کی ضرورت نہیں کہ
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے