سعودی عرب، امارات اور مصر کا اسرائیل نوازی کا مظاہرہ

44
مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی فوج مسجد اقصیٰ سے روکنے کے لیے فلسطینی شہری کو گرفتار کرکے لے جارہے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی فوج مسجد اقصیٰ سے روکنے کے لیے فلسطینی شہری کو گرفتار کرکے لے جارہے ہیں

عمان (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کے قیام کے خلاف اردن میں عرب پارلیمان کے اجلاس میں پیش کی قرارداد پر سخت اعتراض کیا۔ عرب ممالک کا انیسواں متحدہ پارلیمانی اجلاس اردن کے صدر مقام عمان میں منعقد ہوا۔ عرب پارلیمان میں کویتی مجلس امہ کے اسپیکر مرزوق الغانم نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کومسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی جرم قرار دیا۔کانفرنس کے اعلامیے میں کویتی پارلیمان کے اسپیکر کی طرف سے شامل کردہ مطالبے پر سعودی عرب، امارات اور مصر نے اعتراض کیا۔اس موقع پر سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے چیئرمین عبداللہ آل الشیخ نے کہا کہ اسرائیل ساتھ تعلقات کی مخالفت کا مطالبہ پارلیمان کا نہیں حکومتوں کا اختیار ہے۔مصر اور متحدہ عرب امارات کے وفود کے ساتھ اردنی پارلیمان کے اسپیکر عاطف الطراونہ نے بھی اس کی حمایت کی۔ دوسری جانب فلسطینی علما کونسل نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقا کے قیام کو پوری مسلم امت کے سلامتی اوراس کے عقیدے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ فلسطینی علما کونسل نے اسرائیل کے ساتھ مسلمان ممالک کے تعلقات کے قیام کی ممانعت پر مبنی ایک سابق فتوے کا اعادہ کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی قائم کرنے والے پوری مسلم امت کے خائن ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے والے ممالک کے پاس کوئی جواز نہیں۔ جو ممالک ایسا کررہے ہیں وہ اپنے تاج وتخت اور اقتدار بچانے کے لیے سہارے تلاش کرتے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم کا قیام نہ صرف مسلم امت کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، بلکہ یہ عالم اسلام عقیدے کے بھی خلاف ہے۔