سندھ ہائیکورٹ‘محکمہ آبپاشی میں کرپشن سے متعلق نیب کوتحقیقات کاحکم

43

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ آبپاشی میں 7 ارب روپے کی کرپشن اور گھپلے سے متعلق نیب کو سندھ کی بڑی نہروں پر جاری ترقیاتی کاموں کی انسپیکشن اور روہڑی کینال، جھمڑاو کینال اور نارہ کینال کے سروے کا بھی حکم دے دیا۔2 رکنی بینچ کے روبرو محکمہ آبپاشی میں 7 ارب
روپے سے زائد کرپشن اور گھپلے سے متعلق سماعت ہوئی۔عدالت نے ریماکس دیے کہ سیکرٹری اری گیشن، اسپیشل سیکرٹری و دیگر انسپکشن میں کوئی روکاٹ نہ ڈالیں۔ نیب روہڑی کینال اور دیگر نہروں کی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسپیشل سیکرٹری آبپاشی احمد جنید میمن، چیف انجیئر ارشاد میمن اور سپریٹنڈنٹ انجینئر فیاض کے خلاف 3،3 انکوائری چل رہی ہیں۔ 2013-14ء میں روہڑی کینال میں بندوں کی تعمیرات کے لیے رقم جاری کی گئی۔ ملزموں نے روہڑی کینال کی بندوں کی تعمیرات کے بجائے رقم ہڑپ کرلی۔ عدالت عالیہ نے سندھ اسمبلی اور ایم پی اے ہاسٹلز کی نئی عمارتوں میں خورد برد سے متعلق درخواست پر سندھ حکومت سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔عدالت عالیہ میں صوبائی اسمبلی اور ایم پی اے ہاسٹلزکی نئی عمارتوں میں بڑے پیمانے پر گھپلوں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ غلام مصطفی مہیسر نے جواب جمع کرنے کے لیے مہلت مانگ لی۔ عدالت نے سندھ حکومت،چیف سیکرٹری اور دیگر کو 25جنوری تک تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ