کوئٹہ: کرپشن مقدمات میں ڈی جی توانائی سمیت 14 ملزمان پر فرد جرم

61

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) کوئٹہ کی احتساب عدالت نے کرپشن کے 2 مقدمات میں سابق ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ توانائی اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ توانائی سمیت 14 ملزمان پر فرد جرم عاید کردی۔ احتساب عدالت کوئٹہ میں نیب کی جانب سے دائر 2 مختلف ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔ ژوب، موسیٰ خیل، لورالائی اور بلوچستان کے دیگر اضلاع کے لیے شروع کیے گئے شمسی توانائی کے منصوبے میں کروڑوں روپے کے خورد برد کیس کی سماعت کے دوران جج عبدالمجید ناصر نے سابق ایڈیشنل سیکرٹری توانائی منظور احمد اور ڈائر یکٹر جنرل محکمہ توانائی نصرت اللہ بلوچ سمیت 11 ملزمان پر فرد جرم عاید کر دی۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے شمسی
توانائی کا منصوبہ من پسند اور جعلی کمپنیوں کو دے کر 11 کروڑ روپے ہڑپ کرلیے تھے۔ محکمہ انرجی کی جانب سے سولر پینلز کی تنصیب اور خریداری کے منصوبے میں کروڑوں روپے خورد برد کے انکشاف کے بعد نیب کی جانب سے انکوائری شروع کی گئی تھی۔ انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ منصوبوں میں من پسند اور جعلی کمپنیوں کے ساتھ شمسی توانائی کے 11 منصوبوں کے معاہدے کیے گئے، مذکورہ کمپنیز لانگ لائف انرجی سسٹم بنام اسد علی اور سولر فیلڈ این زیڈ کو بنام آصف علی فیض کے پاس نہ ضروری لائسنس تھے، نہ ضروری تجربہ اور نہ ہی وہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ تھیں۔ ملزمان کے خلاف ناقابل تردید ثبوتوں کی روشنی میں نیب بلوچستان نے 2 ماہ قبل ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا تھا۔ دریں اثناء 20 کروڑ روپے سے زائد ناجائز اثاثہ جات بنانے پر کمشنر آفس کوئٹہ کے ذیلی ادارے ڈائریکٹر ڈیولپمنٹ کوئٹہ میں گریڈ 16 کے ملازم طلعت اسحاق سمیت 3 ملزمان پر فرد جرم عاید کردی۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی، DHA لاہو ر اور کوئٹہ میں 20 کروڑ مالیت کے بنگلوں پلاٹس، مہنگی اسپورٹس و دیگر پرتعیش گاڑیوں سمیت کئی قیمتی اثاثہ جات بنائے ۔ ملزم سے دوران تفتیش کروڑوں روپے مالیت کا خالص سونا اور لاکھوں روپے کی غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ