بلوچستان میں نوجوانوں کا قتل ناقص پالیسی کا نتیجہ ہے‘ سراج الحق

98
کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق جے آی یوتھ بلوچستان کے نو منتخب عہدیداران سے حلف لے رہے ہیں
کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق جے آی یوتھ بلوچستان کے نو منتخب عہدیداران سے حلف لے رہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ بلوچستان میں نوجوانوں کا قتل ناقص پالیسی کا نتیجہ ہے، تربت میں 25 نوجوانوں کے قتل کے اصل ذمے دار حکمران ہیں جن کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں نوجوان جان پر کھیل کر روزگار کے لیے باہر جانا چاہتے ہیں،تربت کا واقعہ حکمرانوں کے چہروں پر بدنما داغ ہے،کرپٹ ٹولہ قومی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھا ہواہے،نوجوان غربت سے تنگ آکر باہر جانا چاہتے ہیں،عوامی حقوق کے لیے حکمران اندھے بہرے اور گونگے بن گئے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں جے آئی یوتھ بلوچستان کے نو منتخب عہدیداروں کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی ، جے آئی یوتھ کے صدر جمیل احمد مشوانی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ سراج الحق نے جے آئی یوتھ کے نو منتخب عہدیداروں سے حلف بھی لیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ظالم حکمران لوگوں کو غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور جہالت کے اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے نوجوان بہت بڑی قوت ہیں ہم اس قوت کو میدان میں لا کر ملک کی قسمت بد ل دیں گے۔بلوچستان کو پانی کی ضرورت ہے اورحکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں حکومت بے روزگارنوجوانوں کو کوئی پیکیج ومنصوبہ نہیں دی سکی حکومت اداروں سے لڑنا چاہتی ہے اور اداروں کو بے توقیر کرنا چاہتی ہے ہمارے احتساب کی تحریک جاری ہے، کرپٹ مافیا خوف زدہ ہے، بلوچستان بھی کرپشن کی وجہ سے ترقی سے محروم ہے، نوجوانوں کو دعوت ہے کہ آؤ ظلم کرپشن اور اقتدار پر قابض کرپٹ ٹولہ کے خلاف جے آئی یوتھ میں شامل ہو کیونکہ فاسد نظام کو برداشت کرنا بھی بڑی منافقت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی نئی یونیورسٹی ،نیا کارخانہ اور نہ ہی کوئی ترقی کا نیا میگا پروجیکٹ شروع ہواہے ،صرف کرپشن نے ترقی کی ہے، صوبہ پسماندہ ہے ،یہ کیسی جمہوریت ہے کہ چند خاندان قومی دولت لوٹ کرباہر بھجوارہے ہیں۔ اسلام آبادکے حکمرانوں میں فیصلہ کرنے کی قوت نہیں ہے ۔ ہم پاکستان میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں مگر حکمران اپنی خاندانی بادشاہت قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آئین ریاست اور حکومت کو بے گھروں کو چھت ، بے روزگاروں کو روزگار اور عوام کو تعلیم و صحت کی سہولتیں دینے کا پابند کرتاہے مگر حکمران آئین کی صرف ان دفعات پر عمل کرتے ہیں جو ان کے اختیارات بڑھانے کے لیے ہوں ۔ جن دفعات میں عوام کے حقوق کی بات ہوتی ہے ، ان پر حکمران آنکھیں بند کر کے اندھے بہرے اور گونگے ہو جاتے ہیں ۔ ختم نبوت کے قانون سے حلف نکالنے کی سازش میں اگر وزیر قانون ملوث نہیں تو بتایا جائے کہ کون مجرم ہے اور پھر اسے پکڑکر قانون کے حوالے کیا جائے ۔ عوام مجرموں کو بے نقاب اور قانون کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اداروں کے ساتھ لڑکر حکومت خود جمہوریت کو ختم کررہی ہے اگرعدالت عظمیٰ نے احتساب کا عمل شروع کیا توپوری قوم ساتھ کھڑی ہوگی بھارت بلوچستان میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کر رہاہے۔ حکومت بھارتی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس سے دوستی اور تجارت کے معاہدے کر رہی ہے ۔ کشمیر کی آزادی کے خلاف ہونے والے کسی معاہدے کو قوم قبول نہیں کرے گی ۔ جماعت اسلامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے راستے اور اقتدار کے دروازے کھولنا چاہتی ہے ۔ 2018ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی 50 فیصد ٹکٹ نوجوانوں کو دے گی ۔ بلوچستان میں پختونوں اور بلوچوں کو لڑانے کی سازش کرنے والے پاکستان اور بلوچستان کے دوست نہیں ہیں ۔ بلوچ اور پختون بلوچستان کی2 آنکھیں ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کو نام نہاد بڑوں ، انگریز کے وفاداروں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کاروں نے لوٹاہے ۔ اسٹیٹس کو کو توڑنا اور ظلم و جبر کے فاشسٹ نظام کا خاتمہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مرکزی نقطہ ہے ۔ ہم عوام کو بھی ان لٹیروں کے چنگل سے نکلنے اور ان کے احتساب کی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں ۔ اب وقت آگیاہے کہ ان بڑوں سے حساب کتاب کر کے قومی دولت کی پائی پائی وصو ل کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اقتدار کے ایوانوں پر قابض لینڈ ، شوگر اور ڈرگ مافیا لوگوں کی غربت اور مجبوریوں سے فائدہ اٹھا تاہے اور انتخابات میں کروڑروں اور اربوں روپے خرچ کر کے دوبارہ اسمبلیوں میں پہنچ جاتاہے ۔ ہم آئندہ انتخابات میں نوجوانوں کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ دیں گے اور بلدیاتی اداروں میں نوجوانوں کو آگے لائیں گے تاکہ حقیقی قیادت سامنے آسکے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کی کوشش کررہی ہے تاکہ سرمائے اور خاندانی حیثیت کی وجہ سے اقتدار میں آنے والوں کا راستہ روکا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں لاکھوں نوجوانوں کے شناختی کارڈ بلاک ہیں اور نادرا بغیر کوئی وجہ بتائے لوگوں کو قومی شناختی کارڈ سے محروم رکھے ہوئے ہے ۔ شہریوں کو شہریت سے محروم رکھنا کہاں کا انصاف ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نادرا فوری طور پر بلاک شناختی کارڈ جاری کرے اور ایسا نظام بنایا جائے کہ کسی پاکستانی کو شناختی کارڈ کے حصول میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

حصہ