گھر میں برکت لائیں

33

انتخاب۔ بنت الاسلام

بہت سے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کے گھروں میں برکت نہیں رہی یا برکت کم ہوگئی ہے۔ یہ شکایت ہر گھر کو ہی ہے، مسلمان گھرانے کی اقتصادی حالت یہ ہے کہ مال کم ہوگیا ہے، مال میں برکت نہیں رہی، تنخواہ مہینے کے پہلے ہفتے میں ہی ختم ہوجاتی ہے، زیادہ تر حالات میں ہر ماہ کے آغاز میں ملنے والی تنخواہ سے پچھلے ماہ کے بلکہ کئی ماہ کے قرضے اتارے جاتے ہیں، کئی بار تو یہ قرضے بھی ادا نہیں ہوپاتے، قیمتوں کا حال یہ ہے کہ مہنگائی میں بے حد اضافہ ہوچکا ہے۔
برکت کی کمی کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ کھانا اور غذا کا سامان جلد ختم ہوجاتا ہے اور اس ناکافی غذا میں برکت کا بھی فقدان ہوتا ہے۔
دوسری طرف اگر ہم ازدواجی زندگی کا جائزہ لیں تو خاندان جھگڑوں کی لپیٹ میں رہتے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر میاں بیوی میں ناچاقی، اختلاف، جھگڑا اور پھر علیحدگی یا طلاق عام معمول بن چکا ہے، کبھی ازدواجی زندگی اپنے تمام مسائل و اختلاف کے باوجود قائم رہتی ہے، مگر والدین کے آئے دن کے باہمی جھگڑوں کے منفی اثرات اولاد پر پڑتے ہیں۔ ان کی نفسیاتی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے، پڑھائی متاثر ہوتی ہے، ان کی زندگی کے کئی گوشے بے چینی، اضطراب اور عدم سکون کی نذر ہوجاتے ہیں۔



اب سوال یہ ہے کہ گھروں میں برکت کیوں نہیں؟ جواب یہ ہے کہ گھر اللہ کی یاد سے خالی ہیں، اہل خانہ نماز پڑھتے ہیں نہ صدقے کا اہتمام کرتے ہیں، نہ کبھی اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں، نہ کبھی اس کی عبادت کی زحمت اُٹھاتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سب ٹیلی وژن کے سامنے اکٹھے ہوتے ہیں تا کہ وہ ایسے پروگرام، فلمیں، ڈرامے وغیرہ دیکھیں جن سے ان کا اخلاق تباہ اور ایمان کمزور ہو۔
بچوں کے بارے میں والدین کو شکایت ہے کہ وہ خدمت نہیں کرتے، بات نہیں مانتے بلکہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، نافرمانی، حکم عدولی اور گستاخی کرتے ہیں۔ اولاد اللہ کی اطاعت نہیں کرتی، اخلاق سے محروم ہے، آوارہ گرد ہے۔ محنت، کوشش اور ہمت سے عاری ہے، بلندی تک پہنچنے کا حوصلہ نہیں، ترقی کا سودا، ان کے دماغوں میں سماتا نہیں، پڑھائی میں دلچسپی نہیں، تعلیمی سطح پست ہے، تلاوت قرآن کا نام نہیں لیتی، البتہ بے ہودہ اور فضول گانوں کو زبانی یاد کرنے کا خبط ہے اس پر سوار ہے۔
گھروں میں برکت کیسے آئے؟ برکت آئے تو ساتھ ہی خوشحالی، رزق میں فراخی اور ترقی بھی آئے، سکون و چین کی دولت میسر ہو۔ حصول برکت کا راستہ تلاش کرنا ہے تو پھر یہ راستہ کہیں دور نہیں۔ راستے کا پتا جس کتاب میں ہے وہ ہر گھر میں موجود ہے ایک نہیں کئی کئی ہیں، یعنی قرآن پاک۔

حصہ