قرضوں پر حکومتی نہیں عدالتی کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائے ،لیاقت بلوچ

49
لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ودیگر کی قیادت میں کارکنان مہنگائی کیخلاف احتجاج کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک پر قرضوں کے بوجھ کی تحقیق کے لیے کمیشن ضرور بنے لیکن تمام جمہوری اور فوجی آمریتوں کے ادوار کو شامل کیا جائے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 10 ماہ میں ماضی کے قرضوں کی شرح سے بہت زیادہ قرض لیاہے ۔ یہ بھی تحقیق کے دائرے میں آئے اس لیے سیاسی یا حکومتی ادارے نہیں اعلیٰ عدالتی کمیشن غیر جانبدارانہ تحقیق کرے ۔ان
خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں علما اور سندھ و بلوچستان کے طلبہ وفد اور نوجوانوں سے ملاقات کے دوران کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی ، استحکام اور ترقی اسلامی نظام ، عدل و انصاف ، کرپشن کے خاتمے اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی ممکن ہے ۔ قومی بجٹ قرضوں ، سود اور بھیک کی لعنت میں دباہواہے ۔غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور انارکی بڑھے گی ۔ قرضوں کی معیشت غلامی ہے ۔ خود انحصاری سے ہی قومی وقار بحال ہوسکتاہے ۔ قومی بجٹ آئی ایم ایف کا حکمنامہ ہے ۔ ابھی بجٹ پیش ہی ہواہے لیکن چینی ، گھی ، دالیں ، مصالحہ جات ، چکن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں ۔ یہ بجٹ غریب عوام کے لیے قیامت سے کم نہیں ۔ بجلی ، گیس کی قیمتوں میں اضافے کی خبر قومی معیشت کی تباہی کے لیے آخری تنکا ثابت ہوگا ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ کرکٹ میں تو قومی ٹیم ورلڈ ریکارڈ نہیں بنا رہی لیکن اب پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو عجیب وغریب ورلڈ ریکارڈ بنا رہاہے ۔ کرپشن کے الزام میں سابق صدر اور سابق وزیراعظم جیل میں ہیں ۔ یہ مقدمات دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے ، باری باری حکومت کرتے رہے اور بلیک میل کرتے رہے اور زیادہ حیران کن ہے کہ پکڑا انہوںنے جو ان کی حکومتوں میں رہے یا ان کی حکومتیں بنانے کے معمار تھے ۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ والوں کو یہ معاملہ تو ریکارڈ کر لینا چاہیے ۔
لیاقت بلوچ