غذا اور امراض قلب

191

نادیہ بٹ

پھل اور سبزیاں
تحقیق کے مطابق جو افراد پھلوں اور سبزیوں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں ان میں عام افراد کے مقابلے میں 15 فیصد امراض قلب کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔
دودھ اور اس کی مصنوعات:دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات میں چکنائی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے اور یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ چکنائی دل کی دشمن ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق آپ کی غذا میں چکنائی کا تناسب کم ہی ہونا چاہیے۔
نمک: نمک کی زیادتی دل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ زیادہ نمک ہائپرٹینشن اور بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے اور بلڈپریشر کا امراض قلب سے تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

مچھلی (Oily fish)
برطانوی غذائی ماہرین کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہفتے میں مچھلی کا ایک بار استعمال امراض قلب سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ مچھلی مٰں موجود تیل خون کو جمنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ دوران خون کو بھی درست رکھتا ہے۔
گوشت، برگرز اور پائینر
یقینا ان میں چکنائی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جو کولیسٹرول میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور ان کا زیادہ استعمال امراض قلب کے خطرات کا باعث ہوسکتا ہے۔
اناج: 1996ء سے 2002ء تک امریکا، ناروے اور فن لینڈ میں ہونے والی متعدد ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ تمام اقسام کے اناج کھانے سے امراض قلب کے خطرات کم سے کم ہوسکتے ہیں۔
شکر: شکر کا زیادہ استعمال بھی دل کی صحت کے لیے صحیح نہیں سمجھا جاتا۔ بالخصوص ایسی خواتین جو پہلے ہی موٹاپے کا شکار ہوں انہیں شکر کے استعمال میں احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔