فلسطینیوں کے امدادی ادارے  کے فنڈز بند کرنے کا امریکی مقصد کیا ہے؟

86

دنیا بھر میں امن کے قیام کا دعویدار امریکا کہیں بھی امن قائم نہیں ہونے دیتا نہ صرف امن کے قیام میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ جو لوگ فوجی طاقت سے دبے ہوئے ہوتے ہیں ان پر مزید مظالم خود بھی کرتا ہے اور ظالموں کو تعاون اور مدد بھی دیتا ہے ۔ میانمر کے فوجی حکمرانوں کو بھر پور تعاون امریکیوں نے ہی دیا ہے ۔ میانمر کے حکام مسلمانوں کا کھلے عام قتل کرتے ہیں اور جعل سازی کر کے جھوٹی تصاویر ڈال دیتے ہیں لیکن پکڑے جانے پر خاموش ہو جاتے ہیں ۔ اسی امریکی حکومت نے ایک بار پھر فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کے یے قائم ادارے اونروا کی امداد بند کر دی ہے امریکا میں حکمران کوئی بھی ہو ایک دو مرتبہ اونروا کی امداد بند کرنا ہے یا اس میں کٹوتی کرنا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے یہ اقدام کیا ہے ۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اونروا مغربی کنارے اور غزہ سمیت کئی ممالک میں فلسطینیوں کی امداد کا کام کرتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب اعلان کیا گیا کہ عالمی ادارے کے لیے تمام تر امریکی امداد روکی جا رہی ہے۔ بیان میں اونروا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ایسا ادارہ قرار دیا گیا جس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ امریکا نے اپنے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اونروا کے بنیادی مالیاتی نظام اور پالیسی میں نقص کا بہانا بنایا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ امریکا اس عالمی ادارے کے مجموعی بجٹ کا 30 فیصد ادا کرتا ہے۔ اونروا نے واشنگٹن حکومت کے فیصلے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا ہے، جب کہ امریکی بیان میں شامل تنقید کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ ادارے کے ترجمان کرس گنس نے کہا کہ تنظیم سختی سے اس تنقید کو مسترد کرتی ہے کہ اونروا کے اسکول، صحت کے مراکز اور ہنگامی امداد کے پروگرام ناقابل درست خرابی کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک نے ادارے کی کارکردگی کو عالمی معیار کی حامل قرار دیا ہے اور یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ ہم اس خطے میں سب سے اچھا اسکول سسٹم چلا رہے ہیں، جہاں طلبہ عام اسکولوں میں پڑھنے والوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ گنس نے مزید کہا کہ ہماری غیر معمولی صورت حال کے پیش نظر کئی ڈونرز کے تعاون کے باعث رواں ہفتے 5 لاکھ 26 ہزار لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے اسکول وقت پر کھلے ہیں۔ جب کہ امریکی اقدام پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بھی جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انتونیو گوتیریس کے ترجمان نے کہا کہ اونروا کو سیکرٹری جنرل کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اس ادارے کے سربراہ اور کمشنر پیری کراہن بل نے رواں سال پیش آنے والے غیرمتوقع مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے انتھک کوشش کی ہے۔ جب کہ جرمن وزیر خارجہ ہائیکوماس نے کہا ہے کہ ان کا ملک اونروا کی مالی معاونت میں اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد روکنا خطے کو ایک نئی کشیدگی سے دوچار کرنا اور غیر یقینی کیفیت پیدا کرنا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر قیادت نے امریکا کی طرف سے امداد بند کیے جانے کو انتقامی سیاست اور فلسطینی عوام کے خلاف ایک کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی امداد اس لیے بند کی گئی، کیوں کہ ہم نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کو مسترد کردیا تھا۔ خیال رہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ماضی میں بھی اونروا پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اس تنقید میں پیش پیش رہے ہیں۔ اسی طرح فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد ختم کرنے کا امریکی اقدام اپنی نوعیت کا پہلا اعلان نہیں۔ ایک ہفتہ قبل امریکی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کو غزہ اور غرب اردن میں شہری فلاح وبہبود کے لیے دی جانے والی 20 کروڑ ڈالر کی امداد بھی روک دی تھی۔ امریکا اس سے قبل اس ادارے میں اصلاحات کا مطالبہ کرکے بہانے بناتا رہا ہے، جب کہ رواں برس کے آغاز پر امریکا نے اس کے لیے اپنی امداد میں کٹوتی کی تھی۔ نئے امریکی اعلان کے بعد اب اس ادارے کو 30کروڑ ڈالر نہیں مل پائیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب مشرق وسطیٰ کے لیے صدر ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر اور جیسن گرین فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان قیام امن کے لیے ایک منصوبہ پیش کرنے والے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں ایک عرصے سے اس منصوبے کی باتیں چل رہی ہیں، تاہم فی الحال واضح نہیں کہ اس کے مسودے میں کیا ہے۔ یہ باتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ امریکی حکومت فنڈنگ روک کر فلسطینیوں کو اس منصوبے پر عمل کے لیے تیار کرنے کی کوششوں میں ہے۔ امریکا کی طرف سے امداد ختم کیے جانے کے نتیجے میں امدادی ایجنسی کو شدید دھچکا لگے گا، کیوں کہ یہ ادارہ اردن، لبنان، شام، غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی کفالت کرتا ہے۔ امریکی حکام کا دوغلا پن یہ ہے کہ دنیا بھر میں نہتے لوگوں پر بم برسا نے والوں کو بھر پور مدد دی جاتی ہے اسے ان کی جانب سے انسانوں کا قتل عام نظر نہیں آتا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ