افغانستان:سیکیورٹی فورسز پر حملے جاری،مزید 24 ہلاک 

118

کابل (انٹرنیشنل ڈیسک) افغانستان میں موسم بہار کی آمد سے قبل ہی طالبان کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے۔ گزشتہ چند روز سے جاری مسلسل حملوں کے بعد ہفتے کے روز جنگجوؤں نے افغان سیکورٹی دستوں کے 24 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گھات لگا کر بیٹھے افغان طالبان کے کئی جنگجوؤں نے مغربی صوبے فراہ میں سیکورٹی دستوں پر دھاوا بول دیا۔ گزشتہ روز کیے جانے والے حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 پولیس اہلکاروں اور خصوصی افغان دستوں کے 8 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی تاہم بعد میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ہلاکتوں کی تعداد 24 بتائی ہے۔ حملہ بالا بلوک نامی ضلع میں جمعہ کی رات گئے کیا گیا۔ فراہ کی صوبائی کونسل کے سربراہ فرید احمد بختاور نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے بات چیت میں حملے اور اس کے نتیجے میں سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے ۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے بتایا کہ 9اور 10 مارچ کی درمیانی شب حملے کے وقت سیکورٹی دستوں نے فضائی مدد طلب کر لی تھی۔ بعد ازاں لڑاکا طیاروں کی بمباری میں 40 جنگجو مارے گئے۔ فرید احمد بختاور نے مزید بتایا کہ فضائی بمباری کے نتیجے میں ایک افغان خاندان کے ارکان بھی ہلاک ہوئے ۔ دوسری جانب افغان طالبان نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی اس کارروائی میں کم از کم 53 کمانڈوز کو ہلاک یا زخمی کرنے کے علاوہ بڑی تعداد میں اسلحہ بھی تحویل میں لے لیا گیا۔ ٹوئٹر پر جاری کردہ اس پیغام میں بتایا گیا کہ کارروائی کمانڈوز کی بالا بلوک کے قریبی علاقے ٹاپا سادات آمد پر کی گئی۔ امریکی و افغان عسکری قیادت کے مطابق ان کے مسلسل فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے تناظر میں افغانستان میں سرگرم طالبان جنگجو دباؤ کا شکار ہیں۔ تاہم یہ جنگجو مسلسل حملوں کی صورت میں افغان دستوں کو نقصان بھی پہنچاتے آئے ہیں اور یہ ثابت کرتے آئے ہیں کہ وہ اب بھی ایک حقیقی خطرہ ہیں۔ تازہ حملہ ایران کی سرحد سے قریب ہلمند صوبے کے قریب پیش آنے والا تازہ ترین واقعہ ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں 10 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے ہیں۔ افغان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں بتایا کہ یہ کارروائی مرکزی شہر لشکر گاہ کے علاقے خوشکبا میں کی گئی جس میں 8 دیگر مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ بیان کے مطابق کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز نے خودکش جیکٹس اور کار بم سمیت اسلحہ اور بارودی مواد بھی قبضے میں لیا۔ افغان سیکورٹی فورسز نے جنوب مشرقی صوبے پکتیکا سے بھی بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا بتایا ہے تاہم مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
افغانستان ؍ حملے

Print Friendly, PDF & Email
حصہ