وفاق? بج? اسمبل? م?? پ?ش،مل?? مع?شت سنب?ل چ?? ??،وز?ر خزان?

88

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کے اقدامات کے باعث ملکی معیشت سنبھل چکی ہے اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہوگیا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ 2015-16پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سنبھالی تو یہ قیاس آرائی تھی کہ 2014میں پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا، عالمی مالیاتی ادارےپاکستان کےساتھ کام کرنےسےانکار کر چکے تھے تاہم ہم نے معاشی پنڈتوں کو غلط ثابت کرنے کا تہیہ کررکھا تھا اور دو سال بعد ملکی معیشت سنبھل گئی اور ملک ترقی کی راہ پر چل پڑا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف بی آر کے ریونیو میں پچھلے مالی سال 15 فی صد کا اضافہ ہوا جب کہ رواں مالی سال جولائی سے اپریل تک 20.18 ارب ڈالر برآمدات رہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ملکی شکستہ معیشت کو بحالی کی جانب لے جایا جارہا ہے اور رواں سال ترقی کی اوسطا شرح تین فیصد رہی، اس سال ترقی کی شرح کا ہدف 5.3 فیصد تھا جو سیاسی احتجاج کے باعث، تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلقہ شعبوں کی پیداوار میں کمی آنے کے باعث 4.24 فیصد رہی جب کہ مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جو 11 سال کی کم ترین سطح ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ  اسٹینڈرڈزاینڈپورزاورموڈیزنےپاکستانی معیشت کی آؤٹ لک کومثبت قراردیاہے اور پاکستان 2050 میں دنیا کی 18 ویں بڑی معیشت بن جائے گا۔

گزشتہ حکومت میں شروع کیےگئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے لیے مختص رقم 40ارب سے بڑھا کر 102ارب کردی گئی ہے اور 50لاکھ خاندانوں تک ریلیف پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کاذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دیامربھاشا،کراچی سول نیوکلیئر منصوبےپرکام جاری ہے، نیلم جہلم منصوبہ کے لیے11ارب رکھے گئے ہیں جب کہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ داسو کے پہلے مرحلے میں 52ارب مختص کی گئی ہے۔ملک بھر کے متختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی کے لیے 31ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نوجوان کے لیے اسکیموں کے بارے میں اسحاق ڈار نے بتا یا کہ ایچ ای سی کے جاری منصوبوں کے لیے 51ارب روپے دیے جارہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ