نیب کا اہم اپوزیشن اور حکومتی شخصیات کی گرفتاری کافیصلہ

117

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) قومی احتساب بیورو (نیب) نے جولائی کے مہینے میں
حکومت اور اپوزیشن کی اہم شخصیات کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،وزیر اعلیٰ سندھ نے گرفتاری سے بچنے کیلیے بھاگ دوڑ شروع کردی،پی پی نے متبادل تلاش کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق جولائی میں جعلی اکاؤنٹس، ایل این جی اور مالم جبہ کیس میں اہم پیشرفت کا امکان ہے، جس کے تحت نیب نے جولائی میں حکومتی اور اپوزیشن کی اہم شخصیات کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پر ایل این جی کا کیس نیب میں ہے جبکہ سابق ایم ڈی پی ٹی وی یوسف بیگ مرزا کے خلاف نیب نے وزارت اطلاعات و نشریات سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے کہ وہ 1998ء، 2003ء اور 2010ء میں کس طریقہ کار کے تحت ایم ڈی پی ٹی وی تعینات ہوئے۔ جولائی کے مہینے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گرفتاری کا قوی امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کا قریبی شخص سمجھے جانے والے ناصر حسین شاہ کو وزیر اعلیٰ سندھ بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ سید مراد علی شاہ پر الزام ہے کہ انہوں نے تصدیق کیے بغیر سندھ حکومت کے خزانے سے اربوں روپے کی رقم شوگر ملز کو سبسڈی میں دی اور ان شوگر ملز کو بھی سبسڈی دی جن کی کوئی مشینری ہی نہیں تھی۔یہی نہیں ان پر ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے محکمہ خزانہ سے دیگر محکموں کو جاری کی جانے والی رقوم سے ملنے والی کمیشن کی رقم کہاں خرچ کی اس کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ آخر کار متعلقہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔ ذرائع کے مطابق مراد علی شاہ پر ضلع ملیر میں زمین ضیاء الدین اسپتال کے نام کرنے کا بھی الزام ہے جس کی نیب تحقیقات کر رہا ہے اوروہ تحقیقات کے دوران نیب میں پیش بھی ہو چکے ہیں۔