کرپشن مقدمات ،بابر اعوان بری پرویز اشرف کی درخواست مسترد،شرجیل میمن کی ضمانت

78

اسلام آباد،کراچی(اسٹاف رپورٹر/نمائندہ جسارت) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر دائر نندی پور ریفرنس سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان اور جسٹس( ر )ریاض کیانی کو بری کردیا۔دوسری جانب عدالت نے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، شمائلہ محمود اور ڈاکٹر ریاض محمود کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں۔واضح رہے کہ نندی پور ریفرنس قانونی طور نندی پور توانائی منصوبے پر نظرثانی میں غیر معمولی تاخیر کے بارے میں ہے جس سے اس کی لاگت میں کئی ارب روپے اضافہ ہوا تھا۔ریفرنس میں قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر قانون اور تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان،سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف اور وزارت قانون و انصاف اور پانی و بجلی کو اس کیس میں ملزم ٹھہرایا تھا۔یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کو گزشتہ برس اس ریفرنس میں نامزد کیا تھا جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔بعدازاں بابر اعوان نے ریفرنس سے بریت کے لیے درخواست دائر کردی تھی جس پر 11 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جسے 25 فروی کو سنانے کا اعلان ہوا اور پھر8 مارچ تک ملتوی کردیا گیا تھا تاہم مارچ میں جب احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اس پر فیصلہ سنانے والے تھے تو انہوں نے اپنی بریت کی درخواست واپس لے لی تھی جس کے بعد 19 اپریل کو ایک مرتبہ پھر انہوں نے بریت کی درخواست دائر کی جس پرسماعت کے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنانے کا 2 مرتبہ اعلان ہوا لیکن پھر موخر کردیا گیا لیکن آج احتساب عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے بابر اعوان کو بری کردیا گیا۔واضح رہے کہ نیب کی جانب سے 5 ستمبر کو نندی پور ریفرنس دائر کرنے کے بعد 18 ستمبر کو احتساب عدالت نے نندی پور پاور پروجیکٹ ریفرنس کی سماعت کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ریفرنس میں نیب نے موقف اختیار کیا کہ نندی پور پاور پروجیکٹ میں 2 سال ایک ماہ اور 15 دن کی تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 27 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ریفرنس میں شامل دیگر ملزمان میں سابق سیکریٹری قانون جسٹس (ر) ریاض کیانی اور مسعود چشتی، پانی اور بجلی کے سابق سیکریٹری شاہد رفیق اور وزارت قانون، وزارت پانی و توانائی کے کچھ عہدیدار بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیںسندھ ہائی کورٹ نے محکمہ اطلاعات میں پونے6 ارب روپے کی کرپشن میں سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی 50لاکھ روپے کی ضمانت منظور کر لی۔ منگل کو جسٹس محمد کریم خان آغا کی سر براہی میں 2رکنی بنچ نے محکمہ اطلاعات میں پونے6 ارب روپے کی کرپشن میں ضمانت سے متعلق سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی درخواست پر محفوظ کیا جانے والا فیصلہ سنایا۔فاضل عدالت نے درخواست گزار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے اور درخواست گزار کو جیل سے رہا کرنے کی بھی ہدایات دی ہیں ۔درخواست گزار نے اپنے وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل 2017 سے جیل میں ہیں۔ کیس کے میرٹ پر درخواست دائر کی گئی ہے اور اتنے عرصے میں ان کے موکل کے خلاف 50 گواہان میں سے صرف 3 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں جبکہ ان کے موکل پر اشتہارات مہنگے دینے کا الزام ہیں اور وفاقی حکومت کی اشتہارات کی نئی لسٹ کے مطابق اشتہارات نرخ پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہے لہذا استدعا ہے کہ ان کے موکل کی ضمانت منظور کی جائے ۔ نیب کے مطابق سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن و دیگر پر 5 ارب 76 کروڑ روپے کرپشن کا الزام ہے اور سابق صوبائی وزیر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور کرپشن کی ۔واضح رہے کہ ا س سے قبل چیف جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس کے کے آغا نے شرجیل میمن کی عبوری ضمانت خارج کردی تھی۔علاوہ ازیںسندھ ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سابق صوبائی وزیر اطلاعات کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیے۔،جسٹس محمد کریم خان آغا کی سر براہی میں 2رکنی بنچ نے احتساب عدالت کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے خلاف سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔فاضل عدالت نے احتساب عدالت کا حکم نامہ بھی معطل کردیا ۔درخواست گزار نے اپنے وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر اس سے جیل میں تحقیقات کی اجازت دی تھی جبکہ چیئرمین نیب نے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں لہذا استدعا ہے کہ اس اقدا م کو غیر قانونی قرار دیا جائے بعد ازاں عدالت نے سابق صوبائی وزیر اطلاعات کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیے ۔سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ان کی ضمانت 21ماہ بعد منظور ہوئی ہے جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور 21ماہ جیل میں بند رہ کر قانونی جنگ لڑی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ انہیں عدالتوں پر پورا اعتماد تھا اور ہے اور ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہے ۔وہ کہیں بھاگ نہیں رہے ہیں۔ انہوں نے ضمانت کے بعد کوئی وزارت لینے کی خواہش ہے آپ کی کے سوال پر مسکراتے ہوئے نہ میں جواب دیا۔سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کی درخواست ضمانت منظور ہونے کے بعد انہیں کراچی کے سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا۔