1992اور رواں ورلڈکپ میں پاکستان کی کارکردگی میں حیران کن مماثلت

58

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کرکٹ ورلڈ کپ 2019میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا سفر اتار چڑھا کا شکار ہے، کبھی خوشی اور کبھی غم کا سلسلہ جاری ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ورلڈ کپ 1992میں ہوا تھا، ہوبہو ویسا ہی۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ 2019کیلئے نعرہ ہے ‘وی ہیو ۔ وی ول’ یعنی ہم نے پہلے بھی کر دکھایا تھا اور اب بھی کر دکھائیں گے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس اس نعرے کی عکاسی یوں کررہی ہے کہ جس انداز میں پہلے کیا تھا اس مرتبہ بھی اسی انداز میں کریں گے۔ورلڈ کپ 2019میں پاکستان کی کارکردگی اور اگر مگر کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو یہ 1992سے بالکل بھی مختلف نہیں۔27سال قبل بھی پاکستان نے ویسٹ انڈیز کیخلاف شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ شروع کیا، اس بار بھی، پھر دوسرا میچ جیتا اور تیسرا میچ بارش کی نظر ہوا، یہ اس سال بھی ہوا اور 27سال پہلے بھی۔چوتھے اور 5ویں میچ میں پہلے بھی پاکستان کو شکست ہوئی تھی اور اس مرتبہ بھی پاکستان کو شکست ہوئی۔ 1992میں پاکستان ٹیم جب اپنا چھٹا میچ جیتی تو مین آف دی میچ لیفٹ آرم بیٹسمین عامر سہیل تھے، اس بار جب ٹیم چھٹا میچ جیتی تو مین آف دی میچ لیفٹ آرم بیٹسمین حارث سہیل بن گئے اور تو اور پہلے بھی پاکستان کی امیدیں آسٹریلیا سے وابستہ تھیں، آج بھی آسٹریلیا سے ہی امید ہے۔1992میں پاکستانی ویسٹ انڈیز کیخلاف آسٹریلیا کی فتح کیلئے دعاگو تھے اور اب کی مرتبہ انگلینڈ کیخلاف آسٹریلیا کی فتح کی دعائیں کرناہوں گی۔یہ بھی یاد رہے کہ 92میں بھی پاکستان کا سامنا کرنے سے قبل نیوزی لینڈ کوئی میچ نہیں ہارا تھا اور اس مرتبہ بھی کیویز ناقابل شکست اور کل پاکستان سے میچ کیلئے تیار ہیں۔شائقین کرکٹ 1992اور 2019میں اس قدر یکسانیت دیکھنے کے بعد پر امید ہیں کہ پاکستان ٹیم کیلئے ورلڈ کپ کا نتیجہ بھی ویسا ہی ہو، جیسا 1992میں ہوا تھا۔