قومی اسمبلی ، معاملات طے پا گئے؟

114

یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ قومی اسمبلی کی کارروائی محض اس لیے آگے نہیں بڑھ سکی کہ خود سرکاری بنچوں کے ارکان ایوان میں ہنگامہ کرتے رہے۔ بہرحال منگل کو حکومت اس پر راضی ہوگئی کہ حزب اختلاف کی تقریر میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی چنانچہ شہباز شریف نے تقریر کی تیسری قسط مکمل کرلی۔ اس سے قبل جب بھی اسمبلی کی کارروائی میں خلل آیا ، اس کی وجہ حزب اختلاف کی جانب سے شور شرابا اور ہنگامہ آرائی ہوتی تھی۔ اس ہنگامہ آرائی کے بعد روایتی طور پر حزب اختلاف ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کرجاتی تھی جسے سرکاری بنچوں کے ارکان منا کر لے آتے اور یوں سلسلہ دوبارہ وہیں سے شروع ہوجاتا جہاں سے ٹوٹا تھا ۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت دی کہ حزب اختلاف کے رہنما کو ایوان میں تقریر کرنے ہی نہ دی جائے اور اتنا شور کیا جائے کہ اسپیکر کو مجبوراً اسمبلی کی کارروائی ملتوی کرنا پڑے ۔ دیکھنے میں تو عمران خان کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی مگر اس کے نتیجے میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے مابین طے پاگیا ہے کہ نہ تو حزب اختلاف کے ارکان حزب اقتدار کے رہنما کی تقریر میں خلل ڈالیں گے اور نہ ہی حزب اقتدار کے ارکان حزب اختلاف کے رہنما کے خطاب کے دوران گڑبڑ کریں گے ۔ اس معاہدے کے بعد بدھ کو اس پر عملدرآمد بھی ہوا اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر میاں شہباز شریف نے پرسکون ماحول میں ڈھائی گھنٹے تقریر کی۔ ایک طرح سے یہ حز ب اقتدار کے سربراہ عمران خان کی کامیابی ہے ۔ ان کا اصرار ہی یہ تھا کہ حزب اختلاف ان کی ایوان میں تقریر کے دوران کوئی گڑ بڑ نہ کرنے کی ضمانت دے ۔ مگر عمران خان کی یہ کامیابی جمہوری روایات کو گہنا گئی ۔ اسمبلی کے فلور پر حزب اقتدار کا بلوہ کچھ ایسا ہی تھا کہ جیسے کسی کمرہ تدریس میں شریر شاگرد استاد کے قابو میں نہ آرہے ہوں تو وہ استاد بھی شور مچانے میں ان شاگردوں کے مقابل آجائے ۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ ہر چیز کا اپنا ایک طریق کار ہوتا ہے اوراسی کے مطابق عمل کرنا پڑتا ہے ۔ اگر راہ چلتے مسافر پر کوئی کتا بھونکنا شروع کردے تو مسافر جوابا اس کتے پر نہیں بھونکتا ۔ بہت ہوا تو ایک پتھر اس کی طرف اچھال دیا اور اپنی راہ لی ۔ حزب اختلاف کے ارکان بھی منگل کو حزب اقتدار کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں کہ حزب اقتدار نے اسیر ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ ز حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ ایوان میں عمران خان کی تقریر نہ ہونے دینا ان کا ہدف ہی نہیں تھا ۔ ان کا ہدف تو اپنے اسیر رہنماؤں کو اسمبلی میں لانا تھا۔ اس طرح سے طرفین کے لیے فتح فتح والی صورت رہی۔ اگر اس میں کسی کو شکست ہوئی تو وہ عوام ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ سرکار نے عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دیے ہیں ۔ ملک کو عملی طور پر آئی ایم ایف کے حوالے کردیا ہے اور آئی ایم ایف کو صرف اور صرف ٹیکس کی وصولی سے دلچسپی ہے ۔ اس کے نتیجے میں عوام کی ایک بڑی تعداد روز خط غربت سے نیچے چلی جاتی ہے۔ آئی ایم ایف کے نزدیک اگر کسی کے پاس دینے کے لیے رقم نہیں ہے تو اس کی جھونپڑی بھی قرق کرلی جائے۔ اگر کوئی غریب بیمار ہوگیا ہے تو اس پر ریاست کو خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،ایسا شخص ریاست پر بوجھ ہے اور بہتر ہے کہ اسے مرجانے دیا جائے ۔ اس فلاسفی کے ساتھ اگر کوئی حکومت بجٹ پیش کرے گی تو تصور کرلینا چاہیے کہ کیا ہونے جارہا ہے ۔ ایسے میں عوام کو حزب اختلاف سے توقع تھی کہ وہ بجٹ کا پوسٹ مارٹم کرے گی اور اس میں اصلاحات تجویز کرے گی۔ اس کے مقابلے میں ایک شیڈو بجٹ پیش کیا جائے گا جس میں بتایا جائے گا کہ موجودہ وسائل ہی میں کس طرح سے کام چلایا جاسکتا ہے۔ مگر حزب اختلاف کا وہی ایجنڈا ہے جو سرکار چاہتی ہے یعنی پوری ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا یہی مطالبہ ہے کہ کسی طرح ان کے لیڈر جیل سے باہر آجائیں اور انہیں پاکستان سے بنا کسی پوچھ گچھ کے باہر جانے دیا جائے ۔ شہباز شریف کی ایوان میں تقریر کو رسمی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ٹھوس تجاویز پیش کرنے کے بجائے رسمی باتیں کہہ کر عملی طور پر سرکار کی مدد کی ۔ اصل بات یہ ہے کہ کوئی بھی پارٹی جو موروثی سیاست کررہی ہے اور اس کے رہنماؤں نے کھربوں روپے کی کرپشن کی ہے ، اس لیے وہ راہ فرار چاہتی ہے۔ اگر اپنے مقصد سے مخلص اور اپنے عوام کی فلاح کا متمنی مرسی کی طرح ایک بھی رہنما پاکستان میں ہوتا تو وہ حکومت سے اپنے لیے فوائد کے حصول پر گفتگو نہ کررہا ہوتا ۔ شہید مرسی کا یہی سبق ہے کہ جان دے دی مگر اپنی رہائی کے لیے عوامی مفادات پر سودے بازی نہیں کی۔ اس تمام صورتحال سے پاکستان کے عوام کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے اور ان لوگوں کو پہچان لینا چاہیے جو اپنے مفادات کے لیے ملک اور عوام کے مفادات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ حکومت کو تو ایک طرف رکھیں ، اگراسمبلی میں حزب اختلاف میں عوام کے ایسے نمائندے ہوتے جو نہ بکنے والے اور نہ جھکنے والے ہوتے ، تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی ۔ جس وقت انتخابات ہورہے ہوتے ہیں ، اس وقت عوام ان موروثی سیاسی پارٹیوں کے لارے لپے میں آجاتے ہیں جس کا خمیازہ بھی انہی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس موقع سے کم از کم یہ فائدہ تو اٹھا ہی لیا جائے کہ اسمبلی میں پہنچنے والے عوامی نمائندوں کی حقیقت کو پہچان لیا جائے تاکہ آئندہ ان کے