ہانگ کانگ: چیف ایگزیکٹو کے دفتر پر احتجاج جاری‘ استعفے کا مطالبہ

87
ہانگ کانگ: متنازع بل پر چیف ایگزیکٹو سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین دفتر کے باہر جمع ہیں

ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) ہانگ کانگ میں مشتبہ افراد کی چین حوالگی کے مجوزہ قانون کے خلاف گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین نے چیف ایگزیکٹو سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرہ کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ 20 لاکھ افراد حکومت کی جانب سے مجوزہ بل کے خلاف سڑکوں پر موجود ہیں، اور یہ ہانگ کانگ کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہے۔ اس سے قبل ہفتے کے روز چیف ایگزیکٹو کیری لام نے متنازع بل کے مسودے پر رائے شماری معطل کردی تھی اور اس حوالے سے فریقین سے مذاکرات کا عندیہ دیا تھا، تاہم التوا کے حکومتی اعلان کے باوجود مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بل کو صرف معطل ہی نہیں بلکہ ختم کردیا جائے۔ مجوزہ قانون کے مطابق چین ہانگ کانگ سے سنگین جرائم میں ملوث مطلوب ملزمان کو حوالے کرنے کی درخواست کر سکتا ہے اور ان کے خلاف چین ہی میں مقدمات چلائے جا سکیں گے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے میں چین کی مدد کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے، جس کے بعد اتوار اور پیر کے روز بھی مظاہروں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا، جس میں بیشتر شرکا نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔ اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے راستے اور ریلوے اسٹیشن بند کردیے گئے تھے۔