(مسئلہ کشمیر، جہاد اور جماعت اسلامی (باب ہشتم

237

محمود عالم صدیقی
مولانا مودودی اور ان کے رفقائے کار کی گرفتاری
۱۱؍ستمبر ۱۹۴۸ء کو قائداعظم محمد علی جناح انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کے صرف ۲۳ روز بعد حکومت پنجاب نے سیفٹی ایکٹ کے تحت ۴؍اکتوبر کو امیر جماعت اسلامی پاکستان مولاناسیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ‘ نائب امیر مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور قیّم جماعت اسلامی میاں طفیل محمد کوگرفتار کرکے ملتان جیل میںقید کردیا۔ جماعت اسلامی کے اخبارات’ تسنیم‘ اور’ کوثر‘ کو بندکردیا گیا‘ اور مخالفانہ پروپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کردیا گیا۔ ارباب حکومت مطمئن ہوکر بیٹھ گئے کہ اسلامی نظام اور آئین کا مطالبہ کرنے والوں کی قیادت کو جیل میں ٹھونس کر‘ اور ان کے نشرواشاعت کے ذرائع پر پابندی عائد کر نے کے نتیجے میں اسلام کا نام لیوا باقی نہیں رہے گا۔ قدرت کا کرشمہ یہ ہوا کہ سندھ اور پنجاب میں مسلم لیگی وزارتیں ختم کردی گئیں۔ پنجاب مسلم لیگ کے رہنما جو اسلامی نظام کا نام سننے کے روادار نہ تھے‘انھی کی پنجاب پروونشل مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے رکن راؤ خورشید علی خان جب مطالبہ اسلامی لے کر ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں دستخطوں کے لیے گئے‘ تو ۲۴ میں سے ۱۶ ممبروں نے اس پر خوشی خوشی دستخط کردیے۔یہ دستخطی مہم اتنی کامیاب ہوئی کہ پنجاب کے ہر طبقہ و خیال کے لیڈروں ‘ اخبار نویسوں‘ علمائے دین ‘ تاجروں‘ وکیلوں اور اسمبلی کے ارکان نے ایک پوسٹر میں اس کی تائید کی۔
جماعت اسلامی کے خلاف حکومتی معاندانہ مہم
اگست‘ ستمبر۱۹۴۸ء کے دور ابتلا کے بارے میں نعیم صدیقی رقم طراز ہیں:
’’اس زمانے میں حکومت کے براہ راست اور بالواسطہ پروپیگنڈے نے نیز بعض اخبارات کے مخالفانہ محاذ اور بعض مولویوں کے فتاویٰ اور خطبوں نے رائے عامہ کی فضا کو اتنا مکدّر کردیا تھا کہ دماغی سکون کو برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن مولانا مودودیؒ اس طوفانی ماحول میں جس شان سے عزیمت کی چٹان بنے رہے اس نے جماعت کے ایک ایک فرد میں سچائی پر قائم رہنے کا مضبوط جذبہ پیدا کردیا۔مسجد کے منبروں سے مولانا کو قتل کیے جانے کی کھلّم کھلّا ترغیب دلائی جارہی تھی اور سڑکوں پر چلتے پھرتے کارکن بسا اوقات یہ اندیشہ محسوس کرتے تھے کہ ان پر کہیں بھی غنڈوں کی طرف سے حملہ ہوسکتا ہے۔ ہر ایک ایک چیز کی اطلاع لے کر ہم بار بار مرکز آتے تھے لیکن مولانا سے بات کرتے ہی ساری تشویش ختم ہوجاتی اور عزم و ہمت کی ایک نئی اہم لہر دوڑ جاتی۔
جھوٹے بہتان اور پروپیگنڈہ
حکومت اور اس کے کارپردازان، زر خرید مولویوں اور علمائے سُو اور سرکاری اخبارات بلکہ پورا پریس حکومت کے قبضے میں تھا اور حکومت کے محکمہ تعلقات عامہ نے جماعت اسلامی کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ یہ ایک دینی جماعت ہے اسے سیاست سے سروکار نہ رکھنا چاہیے۔ یہ لوگ پاکستان کے مخالف تھے اور اب انتشار پھیلارہے ہیں۔ حکومت نے جماعت اسلامی کو بدنام کرنے کے لیے خود شوشے چھوڑے اسے پریس‘ ریڈیو اور مساجد سے خوب اچھا لا گیا کہ جماعت اسلامی لوگوں کو روک رہی ہے اور جہاد کشمیر کو حرام کہتی ہے۔ یہ بہتان اس لیے اچھالے گئے تاکہ رائے عامہ پوری طرح ان کے خلاف ہوجائے تو ان پر ہاتھ ڈالا جائے۔ یہ پروپیگنڈہ بھی کیا گیا کہ جماعت اسلامی لوگوں کو حکومت پاکستان سے حلف وفاداری اٹھانے اور فوج میں بھرتی ہونے سے روک رہی ہے۔ جماعت کے مطالبہ نظام اسلامی مہم شروع کرتے ہی حکومت پاکستان نے اپنے ملازموں سے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ ۱۹۳۵ء کی غیر مشروط وفاداری کا حلف لینا شروع کردیا جبکہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی غیر مشروط وفاداری کا حلف نہیںدیتے۔ متاثرین جماعت اسلامی پر حکومت اور ملازمتوں کے دروازے بند کرنا شروع کردیے۔ علیحدہ کیے جانے والے افراد میں جناب محمود اعظم فاروقی اور جناب رحمت الٰہی بھی شامل تھے۔
جماعت اسلامی کا مطالبہ نظام اسلامی
دسمبر ۱۹۴۷ء میں لاہور میں نظام اسلام کے مطالبے کے پہلے اجتماع کے چار ماہ بعد اپریل ۱۹۴۸ء میں جہانگیر پارک کراچی میں جماعت اسلامی کے تحت ایک جلسہ عام میں امیر جماعت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت کم سے کم اس بات کا اعلان کرے کہ پاکستان کو اسلامی مملکت بنایا جائے گا انھوں نے اس موقع پر دستوری مطالبہ پڑھ کر سنایا۔
اپریل ‘مئی ۱۹۴۸ء میں پنجاب کے متعدد شہروں لاہور‘ ملتان‘ راولپنڈی اور سیالکوٹ میں عام جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے رائے عامہ کو اسلامی نظام کے حق میں ہموار کیا۔
۱۶؍مئی ۱۹۴۸ء
حکومت بہت جلد مطالبہ نظام اسلامی سے گھبرا گئی ملک کے وزیراعظم لیاقت علی خاں کا ایک بیان اسی روزروزنامہ انجام میں چھپا جس میں جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ ان کی حرکات کی نگرانی کے لیے خفیہ پولیس مامور کردی گئی اور حکومت کے مختلف شعبہ جات میں مولانا مودودیؒ کے پیرو کاروں کے خلاف بھی خفیہ ہدایات جاری کردی گئیں۔
(جاری ہے)