بجٹ کا بنیادی ڈھانچہ آئی ایم ایف سے معاہدے کا عکاس ہے

55

لاہور (آن لائن) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمزنے بجٹ 2019-20پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محصولات میں 33فیصد اضافے کا ہدف معاشی شرح نمو کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ۔بجٹ کا بنیادی ڈھانچہ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں کا عکاسی ہے، یہ براہ راست ٹیکسز کے ذریعے اکٹھا کیا جائے گا جس سے ایک عام شہری کی ویلفیئر اور معاشی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا۔تاہم اگر معاشی سرگرمیاں زیادہ ہوںگی تو ٹیکس بھی زیادہ سے زیادہ پیدا کیا جائے گا لیکن یہ دونوں ہدف حکومت کے لیے آسان نہیں۔ ،ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ صنعت کاروں کا اس بجٹ میں کیاردعمل ہے اور محصولات کے لیے کیا اقدام اٹھائے جارہے ہیں کیونکہ آنے والے ہفتوں میں اس سلسلے میں بہت لے دے ہو گی ۔آئی پی آر نے تجویز دی ہے کہ ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ ریونیو پیدا کرنے کے لیے معاشی سرگرمیوں کو عروج پر لے جانا ہو گا اور اس پر ایک سخت ما نیٹرنگ سسٹم لاگو کرنا ہو گا، ساتھ ہی اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ محصولات میں اضافے کے باوجود مالی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے7.1 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ آئی پی آر کے مطابق بجٹ میں اکانومی کی تعمیر نوکے لیے کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی، اس کے علاوہ پچھلے 5سال سے برآمدات ایک جگہ پر کھڑی ہیں اور اب بھی اس کی بہتر ی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا اگرچہ اس سال برآمدات میںکچھ اضافہ ہو اہے ۔اضافی ٹیکس اور دی گئی مراعات کو واپس لینے سے صنعتی شعبہ متاثر ہو گا ۔ معیشت کی شرح نمو کاہدف 2020ء کا 4فیصد دیا گیا ہے اور کرنٹ اکاوئنٹ خسارے کا ہدف منفی 3فیصد دیا گیا ہے جو کہ مالی سال 2019 ء کی نسبت بہت کم ہے ۔آئی پی آر کے مطابق ہائر ایجو کیشن کمیشن اور ریلوے کے لیے مختص کی گئی رقم نا کافی ہے ۔