حیدرآباد، سول اسپتال میں زیر اعلاج مریض چل بسا ، ورثا کی ہنگامہ آرائی

30

 

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سول اسپتال حیدرآباد میں زیر علاج مریض کے جاں بحق ہوجانے پر اس کے ورثا اور تیمارداروں نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی ، ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو تشددکا نشانہ بنایا جس پر ڈاکٹروں اور عملے نے ایم ایس آفس کے سامنے احتجاج کیا ، تاہم پولیس نے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی میں ملوث چار افراد کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے علاقے جی آر کالونی دھوبی پاڑا سے 45 سالہ شخص زوہیب علی کو سول اسپتال حیدرآباد میں بدھ کی منگل کی دوپہر کو تشویشناک حالت میں لایا گیا جہاں دوران علاج وہ جاں بحق ہوگیا جس پر زوہیب علی کے عزیزوں اور علاقے کے لوگوں نے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی ،و ہاں موجود ڈاکٹروں ، پیرامیڈیکل کے عملے سمیت سیکورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد ایمرجنسی وارڈ سمیت اسپتال کے دیگر حصوں میں افراتفری مچ گئی اور وہاں زیر علاج دیگر مریض بھی پریشان ہوکر اسپتال سے باہر نکل آئے ۔ متوفی کے عزیزوں اور علاقے کے لوگوں کے رویے کیخلاف سول اسپتال کے ڈاکٹرز، لیڈی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل کے عملے نے ایم ایس آفس کے سامنے احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں ڈاکٹرز ، پیرامیڈیکل کا عملہ دن رات اپنی ذمے داری اور فرائض انجام دیتا ہے لیکن اسپتال میں اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔انہوں نے کہاکہ حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں سے تشویشناک حالت میں مریضوں کو علاج کیلیے سول اسپتال لایا جاتا ہے جن کے علاج کیلیے ڈاکٹر کوئی کسر نہیں اٹھارہے ہیں اس کے باوجود اس طرح کے واقعات آئے دن کا معمول بن گئے ہیں۔ نجی اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو اس وقت سول اسپتال لایا جاتا ہے جب ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہوجاتی ہے ۔اسپتال میں ڈاکٹر ان کی جان بچانے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں لیکن جاں بحق ہوجانے کی صورت میں ساری ذمے داری ڈاکٹر زاور پیرامیڈیکل اسٹاف پر ڈال دی جاتی ہے۔ تاہم سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مبین احمد میمن اور اسپتال انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو یقین دہانی کرانے کے بعد ان کا احتجاج ختم کرادیا۔ ادھر مارکیٹ پولیس نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کرنے والے چارملزمان آصف پٹھان، سعید اسلم ، شاکر علی اور شہریار کو گرفتار کرلیا۔