نجی اسکول ملازمین کی تنخواہیں سرکاری ملازمین کے مطابق کرنے کا حکم

96

اسلام آباد(اے پی پی)عدالت عظمیٰ نے نجی اسکول ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق کیس میں ملازمین کو سرکاری ملازمین کے پے اسکیل کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم جاری کر دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ بورڈ آف گورنرز ملازمین کی تنخواہیں پے اسکیل کے مطابق فکس کرکے عدالت کو آگاہ کریں۔ پیر کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے نجی اسکول ملازمین کو سرکاری ملازمین کے اسکیل کے مطابق تنخواہیں ادا کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس کو نجی اسکول کی انتظامیہ نے چیلنج کیا تھا۔سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جس اسکول کے ملازمین کا معاملہ عدالت میں لایا گیا ہے کیا یہ سرکاری اسکول ہے یا نجی اسکول، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ یہ پرائیویٹ اسکول ہے اور بچوں سے وصول کردہ فیس سے ہی ملازمین کو تنخواہیں دینے کے ساتھ دیگر اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ عدالت کے استفسار پر ملازمین کے وکیل نے بتایا کہ یہ اسکول 2014ء میں ریگولرائز کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد ملازمین کو 2012ء سے فکس تنخواہیں مل رہی ہیں، اگر ان کو فکس تنخواہیں دی جا رہی ہیں تو آخر اس اسکول کو ریگولر کرنے کا کیا فائدہ ہوا ،جس پر جسٹس مقبول باقر نے ان سے کہا کہ آپ سرکاری ملازم نہیں ہیں بلکہ آپ کو بچوں کی فیسوں سے تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، ریگولرائزیشن الگ چیز ہے اور تنخواہوں کا معاملہ مختلف ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملازمین کو کنٹریکٹ کے مطابق تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں ۔جسٹس مقبول باقر نے ان سے استفسار کیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ کیا ملازمین کی تنخواہوں کو پے اسکیل کے مطابق مقرر کیا گیا ہے، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تنخواہوں کے تعین کا اختیار بورڈ آف گورنر کے پاس ہے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا رویہ غیر سنجیدہ ہے، اتنے چھوٹے معاملے پر عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے اور عدالت میں کیس کے حوالے سے کوئی تیاری بھی کرکے نہیں آتے ،کسی بھی سوال کا موزوں جواب نہ دینے کے باوجود آپ کی ہمت ہی ہے کہ آپ روسٹرم پر کھڑے ہو کر بات کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ کریں وہ کریں لیکن کیس کے بارے میں آپ کو ایک لفظ کا بھی پتا نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے اسکول ملازمین کی تنخواہ سرکاری ملازمین کے پے اسکیل کے مطابق مقرر کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔