چیئرمین نیب متنازع تو ہو گئے

120

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف ایک ویڈیو اور ان کی آواز کی ریکارڈنگ منظر عام پر آگئی اسے کئی گھنٹے کے بعد نیب کے ترجمان نے من گھڑت جھوٹ کا پلندہ اور بلیک میلر گروہ کی کارستانی قرار دے دیا۔ عموماً ایسے الزامات پر اسی طرح کا جواب دیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے یہ چلن عام ہوگیا ہے کہ ادھر الزام لگا ادھر استعفیٰ طلب کرلیا گیا۔ کیونکہ الزام تو لگ ہی گیا ہے۔ میاں نواز شریف کا کیس سب کے سامنے ہے۔ ان پر جو الزام تھا سزا اس پر نہیں ہوئی بلکہ کسی اور معاملے میں وہ پھنس گئے کیونکہ سب کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ جن لوگوں کا سب کچھ ٹھیک نہیں ہو ان کا بھی یہی جواب ہوتا ہے جو نیب کے ترجمان کا تھا۔ لیکن چیئرمین نیب ایک ایسے منصب پر فائز ہیں جو بڑا نازک ہے وہ سب کا احتساب کرتے ہیں انہیں اپنی پوزیشن صاف رکھنی چاہیے۔ چیئرمین نیب کا معاملہ بڑی آسانی سے صاف ہوسکتا ہے۔ طیبہ فاروق اور چیئرمین نیب کا موبائل فون لے کر اس کا تجزیہ کیا جائے سب سامنے آجائے گا کب کتنی دیر کی کال کس نے کی۔ یہ اصلی ویڈیو تھی یا نہیں آواز اصلی تھی یا نہیں یہ سارے کام چند گھنٹوں میں ہو جائیں گے لیکن جو چلن موجودہ حکومت نے ڈالا ہے اور سابق نگراں حکومت کے دور میں طاقت کے مراکز نے جس طرح الزام پر نواز شریف کو مستعفی کرانے کے لیے دبائو ڈالا تھا اس طریقے کو اپناتے ہوئے چیئرمین نیب کو اپنے منصب سے خود ہٹ جانا چاہیے اور اگر ان کے خلاف الزامات جھوٹے ثابت ہو جائیں تو الزام لگانے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ الزام لگانے والوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہوا ہے انہیں بھی مین اسٹریم یا مرکزی دھارے کے میڈیا پر آنے دیں۔ کھلی عدالت میں مقدمہ چلائیں۔ دونوں طرف کا موقف سامنے آنے دیں۔ ورنہ سارا سلسلہ دونوں طرف سے بند کرکے معاملے کو عدالت میں جانے دیا جائے۔
ایک پہلو بہت زیادہ قابل توجہ ہے نیب اور چیئرمین نیب کے خلاف مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ایک زبان تو تھے ہی لیکن گزشتہ دو تین روز میں چیئرمین نیب نے بعض باتیں ایسی کہیں جن کے بعد ان کے خلاف ہونے والے اسکینڈل سے حکومتی پارٹی کا تعلق بھی ظاہرہورہا ہے۔ ایک روز انہوں نے حکومت کو تنیبہ کی کہ نیب زدہ اور کرپٹ لوگوں کو حکومتی عہدے نہ دیں… احتساب سب کا ہوگا۔ معیشت اور نیب ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، کرپشن اور نیب ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ لیکن بہت واضح بات یہ تھی کہ اگر کرپشن پر حکومت کے لوگوں کو پکڑنے لگوں تو دس منٹ میں حکومت گر جائے گی۔ اس کے بعد ان کے خلاف یہ ویڈیو اور آڈیو منظر عام پر آگئی۔ ایک ٹی وی چینل سے اس کو نشر کیا گیا وہ چینل اور اس کے مالک آج کل پی ٹی آئی کے بہت عزیز ہیں… اس میں بھی دو سوال ہیں اگر چیئرمین نیب درست کہہ رہے تھے تو انہوں نے انتظار کیوں کیا حکومت گرنا نہ گرنا الگ بات ہے لیکن حکومت میں شامل کرپٹ افراد کے خلاف اتنی سرعت تو دکھائی ہوتی ’’جتنی چیئرمین نیب اور دیگر افراد کو بلیک میل کرنے والے گروہ‘‘ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے میں لگائی گئی۔ ریفرنس نیب نے دائر کیا ہے نیب ہی ملزم نیب ہی منصف ہے۔ اس معاملے کو تو کسی عدالت میں ہی جانا چاہیے۔ فرض کریں الزام لگانے والی خاتون درست کہہ رہی ہو لیکن اس ہنگامے میں اس کی آواز دبا دی جائے گی۔ چیئرمین نیب کو اس سوال کا جواب تو دینا ہوگا کہ اگر حکومت کے کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی کردی تو حکومت دس منٹ میں گر جائے… انہوں نے حکومت کو رعایت کیوں دی… دوسرا سوال حکومت سے ہے کہ اگر نیب کے خلاف مہم مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی چلا رہے تھے تو وہ حکومت کو کیوں دھمکا رہے تھے، سارے معاملے میں گڑ بڑ تو نظر آرہی ہے۔ ایک اور حیرت انگیز اور توقع کے عین مطابق چیز بھی سامنے آئی ہے کہ تقریباً ہر اخبار میں خبر اور سرخی یکساں ہے کہ ’’چیئرمین نیب، اور دیگر افراد کو بلیک میل کرنے والے گروہ کے خلاف ریفرنس دائر‘‘ سوال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کس نے کیا کہ یہ کوئی گروہ ہے اور یہ بلیک میل کررہا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ طیبہ فاروق ہی درست کہہ رہی ہو… صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ تمام اخبارات کو ایک ہی جگہ یعنی نیب سے ایک ہی خبر فراہم کی گئی اور تمام ہی اخبارات نے یہی زبان استعمال کی ہے جس کی رو سے چیئرمین نیب کلیئر اور الزام لگانے والے بلیک میلر ہیں۔ لیکن معاملہ یہاں بالکل الٹ ہے۔ نیب کو تو صرف الزام لگانے کا حق ہے اپنے چیئرمین کا دفاع کرنے کا حق ہے کیونکہ وہ متنازع ہوگئے ہیں ایسے میں نیب کا فیصلہ بھی متنازع ہی رہے گا۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کھل کر کہا ہے کہ وزیراعظم جسٹس جاوید اقبال کو بلیک میل کررہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی کے ذریعے ویڈیو منظر عام پر آنا اتفاق نہیں ہے ان سارے معاملات پر کوئی ازخود نوٹس کیوں نہیں ہورہا۔ یہ کیا کھیل ہورہا ہے، یہ سنجیدہ کیوں نہیں ہو جاتے۔