ترکی نے لیبیا کی آئینی حکومت کو اسلحہ اور بکتر بند پہچا دیں

188
طرابلس: ترکی کی جانب سے لیبیا کی آئینی حکومت کو فراہم کی گئی بکتربند گاڑیاں بندرگاہ پر اتاری جارہی ہیں
طرابلس: ترکی کی جانب سے لیبیا کی آئینی حکومت کو فراہم کی گئی بکتربند گاڑیاں بندرگاہ پر اتاری جارہی ہیں

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد حکومت کی فوج ’’جی این اے‘‘ کو ترکی سے بھیجی گئی درجنوں بکتر بند گاڑیوں اور اسلحہ کی کھیپ پہنچ گئی۔ اس کا مقصد مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والے جنگجو باغی کمانڈر خلیفہ حفتر کی ملیشیا ’’ایل این اے‘‘ کی دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے پیش قدمی کو روکنا ہے۔ قومی حکومت کی افوج نے تُرک ساختہ بی ایم سی کرپی بکتر بند گاڑیوں کی تصاویر اور وڈیوز اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیں، اور لکھا کہ جی این اے نے طرابلس کے دفاع کے لیے اپنی افواج کو بکتر بند گاڑیوں، اسلحہ اور معیاری ہتھیاروں کی کمک بہم پہنچائی ہے۔ مال بردار جہاز امازون سے ہفتے کی دوپہر طرابلس کی ایک بندرگاہ پر یہ سامان اتارا گیا ۔ اس جہاز پر مالدووا کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔یہ جہاز ترکی کی بحیرہ اسود کے کنارے واقع شمالی بندرگاہ سمسن سے روانہ ہوا تھا۔اس کھیپ میں ترکی کی ساختہ 40 بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔انہیں طرابلس کی بندرگاہ پر طاقتور ملیشیا کمانڈر صالح بادی کے زیر کمان فورسز نے وصول کیا تھا۔ گزشتہ روز ہی فیس بک پر طرابلس سے تعلق رکھنے والی ایک حکومت حامی ملیشیا مرسہ بریگیڈ نے مشین گنوں، اسنائپر رائفلوں اور ٹینک و طیارہ شکن میزائلوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں، جو تازہ تازہ ڈبوں میں بند نظر آرہے تھے، جس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ بھی ترکی سے بھیجے گئے اسلحہ کی کھیپ میں شامل تھے اور انہیں طرابلس کے دفاع میں لڑنے والے حکومتی جنگجوؤں میں تقسیم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اسی ماہ کے اوائل میں طرابلس حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ وہ خلیفہ حفتر کی ملیشیا کی چڑھائی کے خلاف ترکی سے فوجی اور سول مدد کے حصول کی غرض سے بات چیت کررہی ہے۔