حکومت مخالف احتجاج کا مرکز اسلام آباد ہوگا، فضل الرحمن زرداری متفق

139

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) پیپلزپارٹی کور کمیٹی اجلاس اور فضل الرحمن آصف زرداری ملاقات میں عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر مشاورت ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں میں احتجاج کا مرکز اسلام آباد کو بنائے جانے پر اتفاق ہوا ہے پیپلزپارٹی کور کمیٹی اجلاس اور فضل الرحمن آصف زرداری ملاقات میں عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر مشاورت ہوئی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، علامہ ساجد نقوی سمیت مختلف رہنماؤں سے رابطے کریں گے ،احتجاج کا مرکز اسلام آباد کو بنائے جانے پر دونوں رہنماؤں میں اتفاق ہوا ہے جبکہ اسلام آباد تک مارچ کیا جائے یا دھرنا دیا جائے؟۔ اس حوالے سے دیگر جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مولانا فضل الرحمن نے آصف زرداری سے گلہ کیا کہ میں پہلے ہی کہتا تھا کہ حکومت کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے مگر میری بات کو نظر انداز کیاگیا جس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ ہم حکومت کو وقت دینا چاہتے تھے۔ معلوم تھا کہ ان کی نااہلی عیاں ہوجائے گی دونوں نے اتفاق کیا کہ اب ہم سب اکٹھے ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے کور کمیٹی اجلاس میں چیئرمین نیب کے انٹرویو کی تمام باتوں پر تفصیلی مشاورت ہوئی پارٹی رہنماؤں کی اکثریت کی رائے تھی کہ انٹرویو ایک منصوبہ بندی کے تحت شائع کرایاگیا۔ چیئرمین نیب کے خلاف تحریک استحقاق لانے پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ نیب کارروائیوں پر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو قائل کیا جائے گانیب کی حالیہ کارروائیوں کے باعث اپوزیشن جماعتوں کی تحریک اب عید کے بعد شروع ہوسکتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملانے کے لیے مولانا فضل الرحمن کو ٹاسک دیا جائے گا۔