کشمیر کے لیے مذاکرات کیوں نہیں

83

جاوید الرحمن ترابی
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک بار پھر پاکستان پر بھارت میں دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک کی ایسی کوشش کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بھارتی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کیخلاف پوری قوت کے ساتھ کارروائی کرنا ہو گی تاکہ پاکستان بھارت مذاکرات کے لیے ماحول فراہم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی اور یہ کام پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہو جاتے ہیں تو ایسے عناصر ملکر ان حالات کو خراب کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے صورت حال پھر خراب ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دیں گی تاہم انہوں نے کہا کہ حالات خواہ کیسے بھی ہوں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنا چاہیے‘ لیکن خاموش ماحول میں امن کی باتیں ہوسکتی ہیں جبکہ تشدد کے ماحول میں امن کی بات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اب معمول بن گئی ہیں پہلے صرف کنٹرول لائن پر فائرنگ ہو رہی تھی لیکن اب بین الاقوامی بارڈر پر بھی بندوقوں کے دہانے کھول دیے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے معاندانہ اور متعصبانہ رویے کے باعث خطے کا امن تہہ و بالا ہے جس کے اثرات کسی نہ کسی طور پر عالمی امن پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ خطے میں امن کی کلید بھارت کے ہاتھ میں ہے بھارت وہ بنیادی مسئلہ حل کرنے کو تیار نہیں جو پاکستان بھارت دشمنی کا سبب ہے اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خودارادیت کے ذریعے اس مسئلہ کے حل کی تجویز دے چکی ہے۔ بھارت یہ مسئلہ خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا، جس کے حل کی تجویز سے بھارت نے اتفاق کیا مگر شروع میں اس تجویز پر عمل سے گریز کرتا رہا اب مزید چار قدم آگے جاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کے ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھی اپنا حق جتانے لگا کشمیری کسی صورت بھارت کا تسلط قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنی آزادی کے لیے قربانیوں کی تاریخ رقم کر رہے ہیں، پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت، ان کی جدوجہد آزادی کی اخلاقی اور سفارتی طور پر حمایت کرتا ہے۔ بھارت کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی اور پاکستان کو ان کی جائز حمایت پر دہشت گردوں کا پشتیبان قرار دیتا ہے۔ سشما سوراج نے ہوا میں تیر چلاتے ہوئے الزام لگایا ہے جب کہ پاکستان بدترین دہشت گردی کا شکار رہا جس پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے مگر دہشت گردی کا جڑوں سے خاتمہ اور دہشت گردوں کے وجود سے ہنوز دھرتی پاک نہیں ہو سکی۔ بھارتی بدنام زمانہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے، اس کا اعتراف کلبھوشن نے بھی کیا بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے حالاںکہ اس کا حق اقوام متحدہ کے چارٹر میں دیا گیا ہے اس حق کو قوت سے دبانے کے لیے نہتے کشمیریوں پر سات لاکھ سفاک فوج کو کیمیائی ہتھیاروں اور پیلٹ گنوں سمیت مہلک اسلحہ سے لیس کرنا دہشت گردی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے باعث ایل او سی پر بھارت کی شرانگیزی اور اشتعال انگیزی جاری رہتی ہے جس میں پاک فوج کے افسر اور اہلکار جام شہادت نوش کرتے ہیں جس کا بھارتی فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔ بھارت انسانیت کے درجے کی اس پستی تک گر جاتا ہے کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری کے پار بسوں، ویگنوں اور شہری بستیوں پر حملہ کر کے خواتین اور بچوں تک کی بھی جان لے لیتا ہے۔
سشما سوراج کہتی ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین خوشگوار تعلقات قائم ہوتے ہیں تو کچھ عناصر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر دیتے ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ بھارت پر عالمی دبائو پڑتا ہے تو وہ مذاکرات کی میز پر آ جاتا ہے۔ دبائو کم ہوتے ہی بھیانک انداز میں مذاکرات کی میز کبھی ممبئی اور کبھی پٹھان کوٹ حملوں کی ڈراما بازی کر کے الٹ دیتا ہے۔ اس کی حکومتیں انتخابات میں کامیابی کے لیے بھی پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دینے سے گریز نہیں کرتیں۔ پلوامہ ڈراما بھی اس کی تازہ مثال ہے پاکستان نے پیشکش کی کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو بڑھائیں گے مگر بھارت نے ہمیشہ منافقت سے کام لیا۔ اس کا رویہ ہمیشہ بغل میں چھری منہ میں رام رام جیسا رہا ہے پاکستان اور بھارت کے مابین بنیادی اور بڑا ایشو مسئلہ کشمیر ہے جو بھارت کا پیدا کردہ اور وہی اس کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہے اس مسئلہ کے باعث تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں اور مزید کسی مہم جوئی کے خدشات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو دیگر پانی، سیاچن اور سرکریک جیسے تنازعات خود بخود طے ہو جائیں گے۔