امریکی کمپیوٹر نیٹ ورک کو خطرہ ہنگامی حالت کا اعلان

54

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو غیر ملکی حریف کمپنیوں سے بچانے کے لیے قومی ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کے ذریعے امریکی کمپنیوں کو غیر ملکی حریف ٹیلی کام کمپنیوں کی خدمات استعمال کرنے سے منع کردیا، جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ ٹرمپ نے حکم نامے میں کسی کمپنی کا نام خاص طور پر نہیں لیا،تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے خاص طور پر چین کی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے حوالے سے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ تاہم اس کے بعد امریکا نے معروف چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے اور اس کی 70 سے زائد ذیلی اور اس سے منسلک کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ امریکا کے محکمہ تجارت نے کہا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ان کمپنیوں پر امریکی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی امریکی کمپنی سے کسی طرح کے آلات یا ٹیکنالوجی خریدنے پر پابندی ہو گی۔ امریکا کے وزیر تجارت ولبر روس نے کہا ہے کہ پابندی کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کو غیر ملکی اداروں کے ہاتھ میں جانے سے روکنا ہے، تاکہ وہ اسے امریکا کی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی سے متعلق مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ ایک بیان میں ولبر روس نے کہا ہے کہ ان کے محکمے کے اس اقدام کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔ خیال رہے کہ ہواوے موبائل انٹرنیٹ کے جدید فائیو جی نیٹ ورک کے آلات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور کئی مغربی ممالک اور ان کی کمپنیاں اس کے تیار کردہ آلات استعمال کرتی ہیں۔ ہواوے کی انتظامیہ ماضی میں بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ امریکا کے لیے خطرہ نہیں اور اس پر امریکی کمپنیوں کی جاسوسی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔