آئی ایم کی سخٹ شرائط سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا،صدر اسلام آباد چیمبر

26

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل، سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے کیلئے معاملات طے کر لئے ہیں تاہم آئی ایم ایف نے قرضہ دینے کیلئے جو شرائط رکھی ہیں ان پر عمل درآمد سے عوام اور تاجر برادری کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط میں حکومت نے بجلی و گیس کے ریٹ مزید بڑھانے اور شرح سود میں اضافہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ سبسڈیز کو بھی کم کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ ان تمام اقدامات سے کاروبار کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو گا جبکہ عوام کے لیے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا اور معیشت مزید سست روی کا شکار ہو گی ۔ انہوںنے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کا دارومدار کاروبار کی لاگت اور عوام کی قوت خرید پر منحصر ہے لیکن آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد سے پیداواری لاگت کافی بڑھ جائے گی جس سے ہماری برآمدات مزیدمتاثر ہوں گی جبکہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید کم ہونے سے کاروباری سرگرمیاں بھی بہت متاثر ہوں گی۔ احمد حسن مغل نے کہا کہ پاکستان نے پچھلے ساٹھ سالوں میں آئی ایم ایف سے 21مرتبہ قرضہ حاصل کیا ہے جن کی مجموعی رقم 27ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے لیکن معاشی طور پر مستحکم ہونے کی بجائے ملک مزید قرضوں کی دلدل میں پھنستا چلا گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر اب تک قرضوں اور واجبات کا بوجھ بڑھ کر 33کھرب روپے سے زائد ہو گیا ہے جو بہت تشویش ناک ہے۔ انہوںنے کہا صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ قرضوں کا سود ادا کرنے کیلئے پاکستان کو مزید قرضہ لینا پڑتا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قرضوں کے حصول نے پاکستان کو ایک مضبوط معیشت بنانے کی بجائے اس کو مزید کمزور کیا ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے دبائو میں آ کر موجودہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کرے اورٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کرے۔ انہوںنے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی جلد نجکاری کرے کیونکہ ان اداروں کو چلانے کیلئے حکومت کو سالانہ400سے 500ارب روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں جس سے ملک کا مالی خسارہ مزید بڑھتا ہے اور اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکس لگائے جاتے ہیں جبکہ بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھا کر تاجر برادری اور عوام پر مزید بوجھ ڈالا جاتا ہے۔