رویت ہلال کا مسئلہ

209

ہمارے ہاں بہت سے لبرل کالم نگار ہمیشہ رؤیت ہلال کے مسئلے پر طبع آزمائی فرماتے ہیں،ہمیں اُن سے ہمدردی ہے، کیوںکہ سیاسی موضوعات کی قلّت ہے اور بعض حسّاس امور پر طبع آزمائی کر کے اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ رؤیتِ ہلال کے مسئلے پر مشقِ ناز کی جائے۔ بعض حضرات اسے طنز ومزاح کا موضوع بناتے ہیں، اُن سے بھی ہمیں ہمدردی ہے کہ اُن کا گزارا ہوجاتا ہے۔ پی ٹی آئی سمیت ہر سیاسی جماعت میں مذہبی ذہن کے لوگ موجود ہوتے ہیں، اس لیے میں سیاسی جماعتوں کے پرجوش کارکنوں سے ہمیشہ اپیل کرتا ہوں کہ آپ کی جولانی طبع کے لیے سیاست کا میدان بہت وسیع ہے، مذہب کو معاف رکھیں تو اس میں آپ کی حسنِ عاقبت ہے۔
بعض لبرل حضرات اس بات کی دہائی دیتے ہیں کہ سائنس کا زمانہ ہے، ہزار سال کا قمری کیلنڈر بنایا جاسکتا ہے، سائنسی اعتبار سے یہ دعویٰ درست ہے۔ عمران خان کی اصطلاح کے مطابق بعض وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں، ایک طرف سائنس کی دہائی دیں گے اور دوسری طرف اس کا ماتم کریں گے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی شہادتیں کیوں قبول نہیں کی جاتیں، تو سوال یہ ہے کہ اگر آپ سائنس کو روبکار لانے کے دعوے دار ہیں تو پہلے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے فیصلوں کا جائزہ لے کر قوم کو بتائیں کہ آیا سائنسی معیار کے مطابق اُن کے فیصلے درست تھے یا انہوں نے لوگوں کے روزے برباد کیے، عصبیت اور نفرت سے بالا تر ہوکر دیانت دارانہ تجزیہ درکار ہے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، لیکن پورا سچ بولنا ہمارا شِعار نہیں ہے، صرف طبع آزمائی کے لیے کوئی عنوان چاہیے۔ اگر کسی کے پاس یہ مہارت یا فرصت نہیں ہے تو ’’رؤیت ہلال ریسرچ کونسل‘‘ کے خالد اعجاز مفتی آپ کو قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کا پورا ڈیٹا فراہم کردیں گے۔ نیز فواد چودھری کو آنے والے جتنے برسوں کے لیے رؤیتِ ہلال کا پیشگی ڈیٹا درکار ہے، وہ بھی انہیں فراہم کردیں گے۔
وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد حسن چودھری سے بھی ہمیں ہمدردی ہے کہ وزارتِ اطلاعات جانے کے بعد میڈیا پر روزانہ رونمائی کا موقع نہیں رہا، سو انہوں نے بھی رؤیت ہلال کو اپنی طبع نازک کا موضوع بنایا ہے، انہیں خوش آمدید۔ ہم منتظر ہیں کہ وہ اپنے ماہرین کی ٹیم سے رؤیت ہلال کا کئی برسوں کا پیشگی کیلنڈر بناکر اُس کی مفتی شہاب الدین پوپلزئی سے توثیق کرادیں، ہر سو فواد چودھری کے ڈنکے بجیں گے، جبکہ حال یہ ہے کہ پوری ریاست جنابِ پوپلزئی کے سامنے بے بس ہے۔
فواد چودھری کی کمیٹی میں غلام مرتضیٰ ڈپٹی چیف منیجر اسپیس سائنس سپارکو بطورِ رکن ہیں اور شاید انہیں معلوم نہیں ہے کہ وہ کافی عرصے سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے باقاعدہ رکن ہیں۔ جہاں تک محکمۂ موسمیات کا تعلق ہے، اُن کی پیش گوئیاں ریکارڈ پر ہیں اور مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان کا اجلاس میٹ کمپلیکس ہی میں ہوتا ہے، لیکن کوئی حقائق سے آنکھیں چرانے پر ادھار کھائے بیٹھا ہو تو اس کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔ جامعۃ الرشید کے پاکستان بھر میں، بالخصوص صوبۂ خیبر پختون خوا میں، علماء پر مشتمل کمیٹیاں ہیں اور روزنامہ اسلام میں ہر ماہ تفصیلی خبر چھپتی ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور اُن سے بھی ریکارڈ حاصل کیا جاسکتا ہے، اُن کے ادارے میں باقاعدہ شعبۂ فلکیات قائم ہے۔ ’’ہفتہ 18اگست 2012 کو میرانشاہ میں 1433ہجری کی عیدالفطر تھی، جبکہ اُس دن سعودی عرب اور پشاور میں روزہ تھا اور یہ اعلان بھی مقدّس شہادتوں کی بنیاد پر کیا گیا تھا‘‘، جبکہ پشاور میں اتوار کے روز اور پاکستان میں سوموار کو عید تھی۔ اسی طرح 16جولائی 2015 کو چاند سورج سے پہلے یا تقریباً ساتھ غروب ہوگیا تھا، لیکن جنابِ پوپلزئی نے غروبِ آفتاب کے بعد شہادتوں کی بنیاد پر چاند کی رؤیت کا اعلان کردیا۔ سوال یہ ہے کہ فواد چودھری صاحب اپنی سیاسی کرامت سے ان مسائل کو کس طرح حل کریں گے۔
اگر ماہرینِ فلکیات کی رائے پر کسی کو فیصلہ کرنا ہے تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ آیا یہ کیلنڈر امکانِ رؤیت پر ہوگا، جسے Visibility کہتے ہیں یا کسی اور فارمولے پر ہوگا، کیوںکہ جنوبی ایشیا کے مسلمان خواہ اپنے وطن میں رہتے ہوں یا کہیں اور منتقل ہوگئے ہوں، وہ رؤیت ِ بصری کو مدار بناتے ہیں، جو حدیث پاک میں منصوص ہے، اس کے لیے انگریزی میں Laid Down, Specified, Stipulated کے الفاظ آتے ہیں۔ چاند کے حوالے سے ایک اصطلاح Birth of Moon کی ہے، یعنی جب چاند، سورج اور زمین کے درمیان ایک سطح یعنی ’’مُستویٰ‘‘ (Plane) پر آجائے تو اسے عربی میں ’’مُحَاق‘‘ اور انگریزی میں Lunar ConJunction کہتے ہیں، اسی کو فلکیات کی اصطلاح میں Birth of New Moon کہتے ہیں۔ غروبِ آفتاب کے بعد اگر چاند مطلع پر ہے تو اُس کے قابلِ رؤیت ہونے کے بارے میں معیارات ہیں، جن میں نئے چاند کی عمر، چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ (Longitudinal Distance)، سورج کا افق سے نیچے ہونا، چاند کا ارتفاع (Altitude of Moon) اور چاند کا زمین سے فاصلہ شامل ہیں۔ ان میں مطلع (Horizon) کی کیفیت، فضا کی شفافیت (Transparancy) اور مقامِ مشاہدہ کا طول بلد اور عرض بلد شامل ہیں۔ سپارکو اور محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی شام پاکستان میں کسی بھی مقام پر امکانِ رؤیت نہیں تھا، کوئی جاکر فواد چودھری کو بتادے۔
انگلینڈ کا معیاری وقت ہم سے چار گھنٹے پیچھے ہے، یعنی وہاں چاند کو مزید وقت مل جاتا ہے، لیکن وہاں بھی چاند نظر نہیں آیا، ورلڈ اسلامک مشن اور مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ کی جانب سے علامہ قمر الزماں اعظمی اور علامہ شمس الہدیٰ مصباحی نے عدمِ رؤیت کا اعلان کیا اور اُن کا روزہ بھی پاکستان کے ساتھ شروع ہوا۔ بھارت، بنگلا دیش، خلیجی ریاست عمان اور مراکش میں بھی رمضان المبارک کا آغاز منگل سے ہوا، کیا یہ سب ممالک مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کی پیروی کرتے ہیں۔ ملائیشیا اور ترکی وغیرہ میں کیلنڈر کے مطابق رمضان کا آغاز ہوتا ہے، لیکن اُن کا کیلنڈر امکانِ رؤیت پر مبنی نہیں ہے، اس لیے ہمارے ممالک میں وہ قابلِ عمل نہیں ہوسکتا۔ سعودی عرب، اس کے زیرِ اثر ممالک اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی کسی کو جوابدہ نہیں ہیں، اس لیے ریاستی اعلان کے بعد نہ وہاں ٹیلی ویژن پر مباحثے ہوتے ہیں، نہ اخبارات میں آرٹیکل لکھے جاتے ہیں اور نہ کارٹون بناکر تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ اُن ممالک میں ریاست کا تحکُّم یعنی Writ چلتی ہے، اپنے ملک کا حال سب کو معلوم ہے۔ البتہ اب فواد چودھری کی صورت میں نہایت طاقتور شخصیت منصّۂ شہود پر آگئی ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ انقلاب لے آئیں۔
اب رہا یہ سوال کہ شہادتیں نہیں سنی جاتیں، تو شہادت علی الاطلاق روئے زمین کے کسی بھی معیار کے مطابق قطعی حجت نہیں ہے، اگر ہر شہادت قطعی حجت ہوتی تو عدالتوں میں گواہوں پر جرح کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، محض گواہی سن کر فیصلے صادر کردیے جاتے اور وکالت کا شعبہ کالعدم ہوجاتا، لیکن شہادت کا ردّو قبول قاضی کا اختیار ہے۔ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان شہادات کو سنتی ہے، ماہرین اور علماء جرح کرتے ہیں اور اپنے اطمینان کے مطابق شہادت کے رَدّ یا قبول ہونے کی بابت رائے دیتے ہیں۔ اب یہ حکومت کی صوابدید پر ہے کہ پورے پاکستان، جس میں بعض مستثنیات کے سوا صوبۂ خیبر پختون خوا کے اکثر علاقے شامل ہیں، کو پیشِ نظر رکھتی ہے یا سب کو ایک محدود حلقے کے تابع بناتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ مخصوص علاقوں کو مطمئن کرنے کی پاداش میں پورے پاکستان کو عدمِ اطمینان میں مبتلا کردیا جائے۔
وہ لبرل حضرات جو اس موقع پر پاکستان کے نظامِ رؤیتِ ہلال پر طنز وتعریض کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اُن کے نزدیک یہ ایک تہوارہے، لیکن مسلمانوں کی غالب ترین اکثریت کے نزدیک یہ عبادت ہے اور عبادت کی شرائط شریعت مقرر کرتی ہے۔ یہاں جنہیں روزے سے سروکار نہیں، وہی زیادہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ میں ایک عرصے سے نہ کوئی تبصرہ کرتا ہوں اور نہ میڈیا کی مباحث میں حصہ لیتا ہوں، کیوںکہ انہیں صرف مذہبی تنازعات کو اچھالنے میں دلچسپی ہوتی ہے۔
میں نے فواد چودھری کے اس موقف پر تبصرہ کیا: ’’علماء نے پاکستان کی مخالفت کی، جناح صاحب کو کافرِ اعظم کہا‘‘، یہ صریح جھوٹ اور ناقابلِ معافی جسارت ہے، کاش کہ وزیرِ اعظم اور پارلیمنٹ اُن سے جواب طلبی کریں۔ اہلسنت کے علماء ومشایخ نے تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا۔ زکوڑی شریف، مانکی شریف، گولڑا شریف، علی پور شریف، سیال شریف الغرض تمام آستانوں کے بزرگوں نے اُس وقت کے صوبۂ سرحد کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ 1946 میں اس وقت کے متحدہ ہندوستان کے خیبر سے لے کر راس کماری تک تمام علماء ومشایخِ اہلسنت نے بنارس سنی کانفرنس کا انعقاد کیا اور پاکستان کی حمایت کی، علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کا اس میں نمایاں کردار تھا، اس میں وہ علماء ومشایخ بھی شامل تھے جنہیں پاکستان آنا نصیب نہیں ہوا۔ دیوبندی مکتبِ فکر کے مولانا شبیر احمد عثمانی اور اُن کے رفقاء نے مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا، اسی طرح شیعہ علماء نے بھی تحریکِ پاکستان کا ساتھ دیا۔ اگر تمام علماء ومشایخ کے صرف نام لکھے جائیں تو اس کے لیے جگہ ناکافی ہے، کئی صفحات درکار ہیں۔ تاہم ’’تحریکِ پاکستان میں علماء ومشایخ کا کردار‘‘ کے عنوان سے جناب محمد صادق قصوری کی ضخیم کتاب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اگر فواد چودھری کانگریس کے ہم نوا علماء پر یہ الزام دھرتے تو قابلِ فہم بات تھی، لیکن انہوں نے تو کسی امتیاز کے بغیر تمام علماء ومشایخ پر عمومی فتویٰ جاری کردیا۔
ماہرِ فلکیات ڈاکٹر شاہد قریشی لکھتے ہیں: ’’عام طور پر دنیا میں نئے چاند کی رویت یا امکانِ رویت کے حوالے سے قمری ماہ کی 29تاریخ کو تین ریجن ہوتے ہیں: ریجن اے: جس میں ہلال کی واضح رؤیت کا امکان ہوتا ہے، ریجن سی: جس میں ہلال کی رؤیت کا کوئی امکان نہیں ہوتا، ریجن بی: جہاں صورتِ حال غیر یقینی ہوتی ہے، ریجن بی میں رؤیت اور عدمِ رؤیت دونوں کے امکانات ہوتے ہیں۔ اگر حقیقی رؤیت کے امکان پر مبنی کوئی مستقل کیلنڈر بنایا جاتا ہے اور ہمارا ملک ریجن بی میں آتا ہو تو اُس صورت میں یہ کیلنڈر قطعی ناکام ہوگا۔
لیکن اگر حقیقی رؤیت کے امکان پر مبنی کیلنڈر نہیں بنایا جاتا، تو یہ رسول اللہؐ کے احکام کے بالکل منافی ہے۔ شعبہ فلکیات آپ کو صرف یہ بتا سکتا ہے کہ قمری ماہ کی 29تاریخ کو ہمارا ملک کون سے ریجن میں آتا ہے: اے یا بی یا سی۔ لیکن اگر ملک ریجن بی میں ہے، تونہ ماہرِ فلکیات اور نہ ماہرِ موسمیات (اس کا صحیح اسپیلنگ Meteorolgy) کوئی قطعی پیش گوئی کرسکتا ہے کہ کسی ملک میں ہلال یقینی طور پر نظر آئے گا۔ لوگوں کو رسول اللہؐ کے علمِ وحی اور دانشِ نبوت پر اعتماد کرنا چاہیے، شریعت نے ہمیں پیش گوئی کا نہیں، بلکہ حقیقی رؤیت کا حکم دیا ہے۔ اتوار29شعبان المعظم 1440ہجری کو ہمارا خطہ ریجن سی میں تھا، یعنی رؤیت کا امکان ہی نہیں تھا‘‘۔
علامہ جاوید غامدی اور اُن کے ہم خیال رؤیت کو علم کے معنی میں لیتے ہیں اور اس بنیاد پر مستقل کیلنڈر کے حامی ہیں، ان کا جواب میں اپنے کالموں اور فتاویٰ کے مجموعے ’’تفہیم المسائل‘‘ میں دے چکا ہوں اور ’’رؤیت ہلال‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل کتاب بھی تحریر کرچکا ہوں، جس میں پاکستان کے نظامِ رؤیتِ ہلال پر اٹھنے والے اشکالات واعتراضات کا کافی وشافی جواب موجود ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی کیلنڈر ہمارے خطے میں تنازع کو ختم نہیں کرے گا، بلکہ اس میں اضافے کا باعث بنے گا۔ سلیم صافی ہمیشہ مجھ سے نالاں رہے اور اپنی نفرت کے اظہار کے لیے موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ میں اُن کی عید خراب کرتا ہوں، اُن سے معذرت خواہ ہوں کہ اُن کی عید کے لیے کروڑوں مسلمانوں کا روزہ برباد نہیں کیا جاسکتا۔
فوادچودھری نے رؤیت ہلال پر بھاری رقوم صَرف ہونے کی بات کی ہے اور یہ بات اکثر لوگ لکھتے رہتے ہیں، اب وہ حکومت میں ہیں، حکومت کا ریکارڈ نکال کر بتائیں کہ رؤیت ہلال کے حوالے سے 19سال میں سرکاری خزانے سے مجھے کیا ملا ہے تاکہ میں چودھری صاحب کے توسط سے واپس جمع کردوں، اُن کی واہ واہ ہوجائے گی۔ فواد چودھری صاحب نے کہا ہے: ’’میں غامدی صاحب کے علاوہ کسی کو عالم نہیں مانتا‘‘، اُن کے نزدیک سب اہلِ علم جہلا کی فہرست میں ہیں، وزیرِ اعظم عمران خان سے بھی سوال ہے کہ آیا یہ پی ٹی آئی کا سرکاری موقف ہے؟۔