نمائشی تبدیلیوں سے حالات سدھرنے والے نہیں،سراج الحق

125

چترال(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مصنوعی اور نمائشی تبدیلیوں سے حالات سدھر نہیں سکتے ۔ ایک ہی طرح کے لوگوں کو حکومتی پارٹی میں جمع کر کے تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ۔ موجودہ حکومت میں بھی وہی لوگ ہیں جو پہلے پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ اور پرویز مشر ف کے ساتھ تھے ۔ حالات دن بدن بدترین اور گمبھیر ہورہے ہیں ۔ مہنگائی اور بے روزگاری قابو سے باہر ہوچکی ہے ۔ روپے کی قدر یتیم کے آنسوؤں کی طرح گر رہی ہے ۔ تبدیلی کے نام پر تباہی لانے والوں نے عوام کو زندہ در گور کر دیاہے ۔ ملکی حالات قرآن و سنت کے نظام ہی سے سدھر سکتے ہیں ۔ حقیقی اور پائیدار تبدیلی کے لیے قوم جماعت اسلامی کا ساتھ دے ۔جماعت اسلامی کے مرکزمنصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے جامعہ اقامت دین چترال میں تکمیل بخاری اور فارغ التحصیل طلبہ کی دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مہتمم جامعہ مولانا شیر عزیز بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 72 سال سے ایک ہی قماش کے لوگ اقتدار پر مسلط ہیں ۔ نام نہاد جمہوری دور ہو یا فوجی آمریت ، اسی ٹولے کے وارے نیارے رہے ہیں ۔ جو لوگ کل مشرف کی کابینہ میں تھے ، آج وہی پی ٹی آئی حکومت کے وزیر مشیر ہیں ۔ یہی لوگ پی پی اور مسلم لیگ کی حکومتوں میں بھی شامل رہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک میں مہنگائی ، بے روزگاری ، غربت اور لوڈشیڈنگ کا اصل مجرم یہی ٹولہ ہے ۔ اشرافیہ کے اس ٹولے نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ وفاداری اور قوم سے بے وفائی اور غداری کے انعام میں جاگیریں حاصل کیں ۔ قومی بینکوں سے اربوں روپے کے قرضے لے کر کارخانے لگائے اور پھر قرض واپس کرنے کے بجائے جعلی کلیم کر کے نہ صرف وہ قرضے ہڑپ بلکہ سرکاری انشورنس کمپنیوں کو بھی کنگال کیا ۔ یہ لوگ اقتدار میں آ کر دولت کے انبا ر لگاتے رہے اور ملک کا مزدور اور کسان خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود فاقہ کشی پر مجبور رہا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ لاکھوں قربانیاں دے کر اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان کو آج تک اسلام کے بابرکت نظام سے محروم رکھنے والے یہی لوگ ہیں ۔ سیکولر اور لبرل ازم کے نام پر ملک کی نظریاتی شناخت ختم کرنے کی سازشوں میں مصروف یہ ٹولہ عام آدمی کو اسی طرح محروم اور مجبور رکھنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے پاکستان کو مدینے کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کا نعرہ لگا کر قوم کو دوسری بار دھوکا دیا ۔پہلے پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ،جس پر70 سال گزرنے کے باوجود عمل نہیں ہوا اور اب مدینے کی ریاست پر عوام کو دھوکا دیا گیا۔ ووٹ لینے کے بعد حکمران اپنے تمام وعدے بھول چکے ہیں ۔ ایک کروڑ نوکریاں اور50 لاکھ گھر دینے کے وعدے یاد دلائے جائیں تو یہ رات گئی بات گئی کا رویہ اپنا لیتے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قوم جس تبدیلی کی راہ دیکھ رہی ہے وہ صرف قرآن و حدیث کا علم حاصل کر کے اس پر عمل کرنے والے ہی لاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ قوم نے جمہوریت اور آمریت سمیت تمام نظاموں کو بار بار آزمایا لیکن ایک بار بھی قرآن کے نظام اور نظام مصطفی ؐکو موقع نہیں دیا گیا ۔ ملک کا دستور اسلامی ہے مگر کسی حکومت نے بھی اس دستور پر عمل نہیں کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اللہ کے غضب کو بھڑکانے کے لیے کافی ہے کہ’’ جو تم وعدہ قوم سے کرتے ہو اسے نبھاتے نہیں ہو‘‘ آج مہنگائی اور قرضوں کا کوڑا بن کر اللہ کا عذاب ہمارے اوپر برس رہاہے ۔