نوٹسز کا جواب دیں یا صنعتیں چلائیں،سندھ حکومت نوٹس لے، سلیم پاریکھ

220

سائٹ صنعتی ایریا میں صفائی ستھرائی کا فقدان

فیکٹریوں کے باہر کچرے کے ڈھیر لگ گئے نوٹس جاری کردیے،فیکٹریاں سیل کرنے

کی تنبیہ

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیم پاریکھ نے کراچی کے سب سے بڑے صنعتی علاقے سائٹ میں صفائی و ستھرائی کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائٹ لمیٹڈ، سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور کچرا ٹھانے پر مامور چینی کمپنی ہانگ زوجن جیانگ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

صنعتوں کے باہر کچرے کے انبار لگ گئے ہیں لیکن کوئی اٹھانے والا نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر سائٹ صنعتی علاقے کو کچرا کنڈی بنا دیا گیا ہے۔یہ بات انہوں نے صنعتی فضلہ اٹھانے کے سنگل پوائنٹ ایجنڈا پرایسوسی ایشن میں ہونے والے اجلاس میں کہی۔

اجلاس میں سندھ سولڈویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر اے ڈی سجنانی ، منیجنگ ڈائریکٹر سائٹ لمیٹڈسید امداد علی شاہ،سائٹ ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر احسن ارشد ایوب،نائب صدرنوید واحد،چیئرمین لاء اینڈ آرڈر سب کمیٹی عبدالہادی ودیگر بھی شریک تھے۔
سلیم پاریکھ نے کہاکہ سندھ سولڈویسٹ مینجمنٹ بورڈاور چینی کمپنی کے ساتھ کئی اجلاس کئے جاچکے ہی لیکن اب تک کوئی اطمینان بخش نتائج برآمد نہیں ہوئے۔روزانہ کی بنیاد پرکچرا اٹھانے کا کوئی نظام نہیں جس کی وجہ سے سائٹ صنعتی علاقہ کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہاہے۔

سائٹ لمیٹڈ نالوں کی صفائی کرکے سارا گند باہر پھینک دیتا ہے اور اسے اٹھانے والا کوئی نہیں جس کا خمیازہ صنعتوں کو بھگتنا پڑتاہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی ( سیپا) کی جانب سے صنعتوں کے باہر پڑے کچرے کو جواز بنا کر کو نوٹسزبھیجے جاتے ہیں اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ اگر صنعتی فضلہ نہ اٹھایا گیا تو فیکٹری سیل کردی جائے گا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کچرا اٹھانے کے ذمہ دار اداروں کی غفلت کی سزا سائٹ کی صنعتوں کو کیوں دی جارہی ہے؟ اداروں کی ناکامی کی وجہ سے صنعتوں کو غیر ضرورری نوٹسز جاری ہورہے ہیں جن کا سندھ حکومت کو نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے سیپا کی جانب سے نوٹسز واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ صنعتکار اپنی فیکٹریاں چلائیں یا نوٹسز کے جواب دیں ۔

صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے جی ٹی سی کالج سے کچرے کے ڈھیر اٹھانے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ جنوری 2019سے یہاں سے کچرا نہیں اٹھایا گیا جس پر ڈاکٹر سجنانی نے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ اندازے مطابق 1500ٹن کچرا اٹھانے کے لیے کم ازکم 300گاڑیوں کی ضرورت پڑے گی یعنی ایک گاڑی 5ٹن کچرا ٹھائے گی۔انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ اس حوالے سے حکمت عملی وضع کی جائے گی۔اجلاس میں بتایا کہ جی ٹی ایس سے لینڈفل سائٹ تک ایک اور ٹھیکیدار کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جبکہ چینی کمپنی کو فی ٹن کچرا اٹھانے کی ادائیگی کی جاتی ہے۔انہوں نے سائٹ لمیٹڈاور سندھ سولڈویسٹ مینجمنٹ بورڈکے ایم ڈی سے درخواست کی کہ ہرادارے کو اپناکام کرنا چاہیے تاکہ صنعتکار پیداواری سرگرمیوں کو بلارکاوٹ جاری رکھنے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھ سکیں جس سے یقینی طور پر ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا ۔

mm
قاضی جاوید سینئر کامرس رپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com