دنیا بھر میں نجکاری ناکام ہوگئی ہے، جنیدی

90

 

قومی ملکیتی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ انتہائی اہم قومی مسئلہ ہے اور اس سلسلہ میں حکومت پارلیمان میں قومی اتفاقِ رائے پیدا کرے بصورتِ دیگر اُس کے یکطرفہ فیصلوں میں معاونت کے بجائے اُن کی مزاحمت کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی نے اپنے ایک بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف اداروں کی نجکاری پلان کے اجراء کے بارے میں اپنے ردِعمل میں کیا۔سینئر مزدور رہنما نے کہا کہ پرائیویٹائزیشن کی پالیسی پوری دنیا میں ناکام ہوچکی ہے اور پاکستان میں بھی اس کا کوئی فائدہ اس ملک یا اُس کے عوام کو نہیں پہنچا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پرائیویٹائزڈ کئے گئے اداروں سے اس ملک کو بیروزگاری اور چند خاندانوں کی اجارہ داری کے سواء کچھ حاصل نہیں ہواجس کی سب سے بڑی اور واضح مثال بنکنگ انڈسٹری ہے جہاں سے ایک
دن میں ہزاروں ملازمین روزگار سے جبری طور پر فارغ کئے گئے اور وہ اور اُن کا خاندان آج بھی کسمپرسی کے حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔حبیب الدین جنیدی نے کہا کہ قومی ملکیتی اداروں کی بالائی سطح کی انتظامیہ کی ناقص پالیسی اور طبقہ اشرافیہ کے طبقاتی مفادات کی خاطر ان اداروں کو تباہ وبرباد کیا گیا، ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی تحویل کی صنعتوں کو فروخت کرنے کی بجائے ان اداروں میں بنیادی اور سخت اصلاحات نافذ کرکے دوبارہ اُن کے پیروں پر کھڑا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نجکاری کو قومی مفادات سے متصادم تصّور کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرسکتے۔