سندھ اسمبلی :پی ٹی آئی اور متحدہ اراکین کا سید عبدالرشید پر حملہ،اسپیکر نے تحریک استحقاق کمیٹی کے حوالے کردی

172
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی اسامہ رضی رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کے ساتھ ہنگامی پریس کانفرنس کررہے ہیں
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی اسامہ رضی رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کے ساتھ ہنگامی پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف ر پورٹر)سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آ ئی اور متحدہ ار کان کا ایم ایم اے کے ر کن سید عبدالرشید پر حملہ ،مجلس عمل کے رکن نے حملہ کرنے والے اپوزیشن ار کان کے خلاف سیکرٹری سندھ اسمبلی کے پاس تحر یر ی شکایت جمع کرادی،اسپیکر نے “تحریک استحقاق” واقعے کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کے سپردکردی،وزیربلدیات سندھ سعید غنی نے سید عبدالرشیدپرحملہ کرنے والے ارکان پر ایوان کے اندر داخلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر د یا۔تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو ایک روزکے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا تو ابتدا سے ہی ایوان کے ماحول میں کشیدگی کا عنصر نمایاں تھا،فاتحہ خوانی کے فوری بعد قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے پوائنٹ آف آرڈر پر قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملے پر جاری تعطل پر بات کرنے کی کوشش کی تو وزیر توانائی امتیاز شیخ نے اسپیکر سے کہا کہ انہیں وقفہ سوالات کے بعد بولنے کی اجازت دی جائے تاہم قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہماری بات نہ سنی گئی تو ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے،اس کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور شور شرابہ شروع کردیا۔فردوس شمیم نقوی نے ایم ایم اے اور تحریک لبیک پاکستان کے ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کے لے پالک ہیں،انہیں ہماری صفوں سے نکالا جائے ۔ان کے اس ریمارکس پر ایم ایم اے کے رکن سید عبدالرشید نے سخت احتجاج کیا۔سیدعبدالرشید نے اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کیخلاف تحریک استحقاق پیش کی۔ جس میں کہا گیا کہ فردوس شمیم نقوی نے ایم ایم اے اورٹی ایل پی ارکان کو پیپلزپارٹی کا لے پالک بچہ کہا ،ان کا یہ بیان توہین آمیز ہے جس سے ارکان کااستحقاق مجروح ہوا۔پیپلزپارٹی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کیخلاف تحریک استحقاق کی حمایت کی گئی۔اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں زبردست احتجاج شروع کردیا گیا اور پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے کچھ ارکان ایم ایم اے کے رکن سیدعبدالرشید کی جانب لپکے اور انہیں زدو کوب کرنے کی کوشش کی۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے سید عبدالرشید کو اپنے حفاظتی حصار میں لے کر تشدد سے بچایا تاہم انہیں بچانے کی تگ و دو کے دوران حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے گو زرداری گو اور پی پی کی جانب سے گو نیازی گو کے نعرے بھی لگائے گئے۔اسپیکر نے سید عبدالرشید کی تحریک استحقاق خصوصی کمیٹی کے سپردکردی۔خصوصی کمیٹی7 ارکان پر مشتمل ہوگی،جس کے کنوینر غلام قادر چانڈیو ہوں گے۔وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ اپوزیشن کے ہی ایک رکن پر تحریک انصاف کے کچھ ارکان کی جانب سے تشدد کی کوشش کرنا اورایم کیو ایم کے انتہائی سینئرپارلیمنٹرین محمد حسین کی جانب سے سید عبدالرشید کا مائیک بند کرنا شرمناک اور قابل مذمت ہے ،اپوزیشن ارکان غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرر ہے ہیں اور ان کی جانب سے بد تہذیبی پر مبنی نعرے لگائے جا رہے ہیں۔وزیر بلدیات نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ جنہوں نے ہاتھا پائی کی ان کے ایوان میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔بعدازاں اسپیکر نے ایوان کی کارروائی(آج) جمعہ کی سہ پہر3 بجے تک ملتوی کردی ۔ علاوہ ازیں متحدہ مجلس عمل کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشیدنے اپوزیشن کے خلاف تحریری شکایت سیکرٹری سندھ اسمبلی کو جمع کرادی ۔یہ شکایت پی ٹی آ ئی کے ارکان عدیل احمد،ارسلان تاج گھمن،راجا اظہر خان،بلال احمد اور محمد علی عزیز جب کہ ایم اکیو ایم کے رکن محمد حسین کے خلاف جمع کرائی ہے ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان ارکان اسمبلی نے مجھ پر حملہ کیا اور غیر پار لیمانی الفاظ استعمال کیے ۔دوسری جانب سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی اور متحدہ ارکان کی جانب سے لیاری سے ایم ایم اے کے منتخب عوامی نمائندے سید عبدالرشید پرحملہ کر نے کے خلاف ان کے حلقے لیاری کے عوام سٹرکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہسید عبدالرشید پرحملہ کر نے والے پی ٹی آ ئی اور متحدہ کے ارکان سندھ اسمبلی کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

کراچی(اسٹاف ر پورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی طرح پی ٹی آئی بھی فاشسٹ پارٹی بن رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سید عبد الرشید پر حملہ کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے،ان کی رکنیت معطل کی جائے اور ایف آئی
آر درج کی جائے۔یہ بات انہوں نے جمعرات کی شب ادارہ نور حق میں رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید کے ساتھ ہنگامی پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر برجیس احمد ، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب ،الیکشن سیل کے انچارج راجا عارف سلطان ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کے ارکان اسمبلی کی جانب سے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک ،غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی حرکت قرار دیا ۔اس موقع پر سید عبد الرشید نے سندھ اسمبلی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے اور ان پر حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ سید عبد الرشید لیاری کے عوام کے منتخب نمائندے اور اسمبلی کے اندر متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔سندھ اسمبلی کے دیگر ارکان گواہ ہیں کہ پی ٹی آئی کے ارسلان تاج ، راجا اظہر ، محمد علی عزیز ،بلال غفار ، عدیل اور ایم کیو ایم کے محمد حسین کے ساتھ مل کر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا ماضی سب کے سامنے ہے،یہ لوگ پہلے بھی شہر کے حالات اور اسمبلی کے ماحول کو خراب کرتے رہے ہیں ،اب تحریک انصاف بھی ایم کیو ایم کی راہ پر چل پڑی ہے اوراسمبلی کے ماحول کو خراب کر نے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سید عبد الرشید نے لیاری سمیت کراچی کے عوام کے مسائل کے حل اور حقوق کے لیے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے سے پہلے بھی بھر پور جدو جہد کی ہے اور رکن بنتے ہی اسمبلی کے اندر بھی عوام کی ترجمانی کی ہے۔جماعت اسلامی نے ہر فورم پر کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھائی ہے اور بھر پور جدو جہد کی ہے ،جماعت اسلامی کو دیگر معاملات میں الجھا کر اس جدو جہد سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے،پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں نہ کہ اپوزیشن ارکان کے خلاف ہی کوئی محاذ بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں اپوزیشن کے درمیان ہم آہنگی ختم کرنے اور معاملات کو الجھانے کی کوشش کر رہی ہیں جو کسی طرح بھی مناسب اور درست طرزعمل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے اندر بنائی گئی کمیٹی کی ذمے داری ہے کہ وہ سندھ اسمبلی کے اندر پیش آنے والے اس غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی واقعے کی مکمل تحقیقات کرے اور اس میں ملوث ارکان کے خلاف نہ صرف تادیبی کارروائی کی جائے بلکہ ان کو سزابھی دی جائے ۔