آئی ایم ایف سربراہ وزیراعظم ملاقات ،امداد کیلئے واضح پیش رفت نہ ہوسکی

141
دبئی، وزیراعظم عمران خان آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹین لوگارڈے سے ملاقات کررہے ہیں
دبئی، وزیراعظم عمران خان آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹین لوگارڈے سے ملاقات کررہے ہیں

دبئی(مانیٹر نگ ڈ یسک+ خبر ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان سے دبئی میں عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)کی منیجنگ ڈائریکٹر( ایم ڈی ) کرسٹین لیگارڈ نے ملاقات کی تاہم اس ملاقات میں پاکستان کوامداد دینے سے متعلق واضح پیش رفت نہ ہوسکی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لیگارڈ نے ملاقات کی۔عمران خان نے آئی ایم ایف کی سربراہ کو پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی اصلاحات کررہا ہے، آئی ایم ایف کے تعاون کو سراہتے ہیں۔اس موقع پر کرسٹین لیگارڈ نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کی مدد کے لیے تیار ہے، پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے، پاکستانی معیشت میں استحکام معاشی اصلاحات اور فیصلہ کن پالیسیوں سے آئے گا۔وزیراعظم عمران خان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات دبئی میں ہونے والی ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے موقع پر ہوئی۔ ملاقات میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں ملکی معاشی صورتحال اور بیل آؤٹ پیکج پر بات چیت کی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاکستان سے تعاون کو سراہتے ہیں اور حکومت پاکستان معیشت کے استحکام کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان معاشی اصلاحات کر رہی ہے اور حکومت ملک میں سماجی تحفظ کو فروغ دے گی۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے دبئی میں ہونے والے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب میں کہا کہ 60ء کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک تھا مگر بدقسمتی سے پاکستان ترقی کی رفتار برقرار نہیں رکھ سکا جس کا سبب ماضی کے حکمرانوں کا عوام کا پیسہ عیاشی میں اڑانا تھا، لوگ ماضی کی حکومتوں پراعتماد نہیں کرتے تھے اس لیے وہ ٹیکس نہیں دیتے تھے،ماضی میں ٹیکس کا پیسہ حکمرانوں کی عیاشیوں پرخرچ ہوتا رہا۔عمران خان نے کہا کہ ترقی کی بنیاد ہی بہتر طرز حکمرانی ہے، خیرات میں ہم بہت آگے اور ٹیکس دینے میں بہت پیچھے ہیں، جب لوگ اتنے اچھے ہیں تو ٹیکس کیوں ادا نہیں کرتے، اس کی وجہ لوگوں کا حکمرانوں پر عدم اعتماد ہے،کرپشن سے ٹیکس کا پیسہ چوری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات مشکل ہیں مگرضروری ہیں، ہم معاشی اصلاحات کررہے ہیں، سرمایہ کار پاکستان کا رخ کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں متحدہ عرب امارات کی ائرلائن کی تشکیل میں پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) نے معاونت کی تھی، ہمیں اپنے ٹیلنٹ کو آگے لانا ہوگا، میں پاکستان کو بہت اوپر لے کر جانا چاہتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے، سرمایہ کاروں سے کہتا ہوں کہ یہ وقت ہے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا، سرمایہ کار اس بہترین موقع کو ضائع نہ کریں۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات کے حوالے سے ٹویٹ بھی کی اور کہا کہ آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات میں مکمل ہم آہنگی پائی گئی۔ملاقات میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کو معاشرے کے پسماندہ ترین طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے جامع ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت کے حوالے سے اپنا ہم خیال پایا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو یہی پیغام دیا کہ یہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا بہترین موقع ہے لہٰذا اس سنہری موقع کو ضائع نہ کریں۔علاوہ ازیں عالمی مالیاتی ادارے کے اعلامیے کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے اچھی اور تعمیری ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں حالیہ معاشی ترقی اور مستقبل کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جاری آئی ایم ایف پروگرام پر بات چیت کے تناظر میں گفتگو ہوئی جس میں میں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئی ایم ایف پاکستان کی مدد کے لیے تیار ہے۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کے مطابق فیصلہ کن پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کے مضبوط پیکج سے پاکستانی معیشت میں استحکام آئے گا، پاکستان کی حکومت درست سمت میں معاشی اقدامات کر رہی ہے اور معیشت کی بہتری کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے۔اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف معاشی اصلاحات پر متفق ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اورابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد زید بن الیہنان کے درمیان ون ان ون ملاقات ہوئی،دبئی میں ہونے والی اس ملا قات میں دوطرفہ اموراورعالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پربھی بات چیت کی۔وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرخزانہ اسد عمر،وزیر اطلاعات فواد چودھری،وزیر برائے بحری امور علی زیدی ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز ذوالفقار بخاری اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین بھی ہیں۔اس سے قبل جب وزیراعظم عمران خان متحدہ عرب امارات کے ایک روزہ دورے پر دبئی پہنچے تو ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد زید بن الیہنان نے ائر پورٹ پر ان کا پرتباک استقبال کیا۔