امریکا : شام و افغانستان سے انخلا کیخلاف قرارداد منظور

121
واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں شام اور افغانستان سے فوجی انخلا پر بحث ہورہی ہے
واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں شام اور افغانستان سے فوجی انخلا پر بحث ہورہی ہے

 

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سینیٹ نے شام اور افغانستان سے امریکی فوج کی مجوزہ واپسی کی مخالفت میں قرارداد منظور کرلی۔ حالاں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں افغانستان اور شام سے امریکی فوج کو واپس بلانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ سینیٹ میں ری پبلکن اکثریتی رہنما مچ مکونیل نے پیر کے روز یہ قرارداد پیش کی، جسے 26 کے مقابلے میں 70 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ داعش اور القاعدہ کے عسکریت پسند اب بھی امریکا کے لیے خطرہ ہیں۔ قرارداد میں متنبہ کیا گیا ہے کہ شام اور افغانستان سے امریکی فوج کے تیزی سے انخلا کی وجہ سے عسکریت پسندوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو یہ یہ خطے عدم استحکام کا شکار ہوں گے اور وہاں خلا پیدا ہو سکتا ہے جسے روس یا ایران پُر کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک ٹوئٹ کے ذریعے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش کو شکست دی جا چکی ہے۔ لیکن ٹرمپ حکومت کے اپنی انٹیلی جنس ادارے یہ کہہ چکے ہیں کہ داعش بدستور خطرہ ہے۔ ٹرمپ پینٹاگون کو افغانستان میں تعینات 14 ہزار فوجیوں کی نصف تعداد کی واپسی کا منصوبہ بنانے کا بھی حکم دے چکے ہیں، جس پر کئی قانون سازوں کو تحفظات ہیں۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن دونوں جماعتوں کی حمایت سے یہ قرارداد ایسے وقت منظور کی گئی ہے، جب کانگریس کے ارکان میں صدر ٹرمپ کی شام اور افغانستان سے متعلق پالیسی پر تحفظات بڑھ رہے ہیں۔ مچ مکونیل نے گزشتہ ہفتے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش اور القاعدہ کو شکست دینا ابھی باقی ہے۔ سینیٹ کی جانب سے پیر کے روز منظور کی جانے والی قرارداد پر امریکی حکومت عمل کرنے کی پابند نہیں، لیکن اس قرارداد کے نتیجے میں شام اور افغانستان سے متعلق طویل المدت حکمت عملی وضع کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان مشاورت کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جم رش نے کہا ہے کہ یہ قرارداد ٹرمپ کے لیے تنبیہ نہیں، بلکہ ہم وہاں ایسی چیزیں کر سکتے ہیں جو ہمیں وہاں محفوظ رکھیں گی۔ ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال نے قرارداد پر ووٹنگ سے پہلے کہا کہ بس بہت ہو گیا۔ اب جنگوں پر خرچ ہونے والی رقم کو ملک کے اندر خرچ کرنے کی ضروت ہے۔