ٹرمپ نے وینز ویلا میں فوج اتارنے کا عندیہ دیدیا 

45
کراکس/ واشنگٹن: وینزویلن صدر نکولاس مادورو اپنے حامیوں کی ریلی کے دوران قومی پرچم لہرا رہے ہیں‘ ٹرمپ سی بی ایس چینل کو انٹرویو دے رہے ہیں
کراکس/ واشنگٹن: وینزویلن صدر نکولاس مادورو اپنے حامیوں کی ریلی کے دوران قومی پرچم لہرا رہے ہیں‘ ٹرمپ سی بی ایس چینل کو انٹرویو دے رہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ تاہم وینزویلا کے اتحادی ملک روس نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا کے داخلی معاملات میں مداخلت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نیوز چینل سی بی ایس کو انٹرویو میں کہا کہ وینزویلا میں فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکولاس مادورو نے کئی ماہ قبل ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم انہوں نے ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا تھا، کیوں کہ وینزویلا میں جاری بحران کے حوالے سے ان کی پالیسی اور امریکا کے موقف میں وسیع اختلاف موجود ہے۔ دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ وینزویلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اور دیگر ممالک کو اندرونی معاملات میں مداخلت کے بجائے وینزویلا کی مدد کرنی چاہیے، تاکہ وہ بحران سے باہر نکل سکے۔ ادھر فرانس اور آسٹریا نے بھی کہا ہے کہ اگر مادورو یورپی یونین کی طرف سے آزادانہ اور منصفانہ انتخاب کے انعقاد کے سلسلے میں یورپین یونین کے مطالبے کا مثبت جواب نہیں دیتے، تو وہ حزب اختلاف کے رہنما خوآن گوائیڈو کی حمایت پر مجبور ہو جائیں گے۔ خیال رہے کہ امریکا اور کئی مغربی ممالک وینزویلا کے سوشلسٹ صدر نکولاس مادورو سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امریکا، کینیڈا اور یورپ اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک نے گزشتہ سال وینزویلا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں نکولاس مادورو کی کامیابی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخابات دھاندلی زدہ تھے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں حزب اختلاف کے رہنما اور پارلیمان کے اسپیکر خوآن گوائیڈو کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جنہوں نے صدارتی انتخاب کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے خود عبوری صدر ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ ادھر اس بحران کے باعث وینزویلا ان دنوں ادویات اور خوراک کی شدید قلت کا شکار ہے۔ مادورو کے گزشتہ دور میں بھی وینزویلا معاشی بحران سے دوچار رہا ہے اور ہزاروں شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ تاہم مادورو کو روس، چین اور ترکی کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کی فوج بھی ان کا مکمل ساتھ دے رہی ہے۔