مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت سے مزاکرات نہ کیے جائیں،سراج الحق 

147
لاہور:امیر جماعت اسلامی سراج الحق تصویری نمائش کا ربن کاٹ کر افتتاح کررہے ہیں
لاہور:امیر جماعت اسلامی سراج الحق تصویری نمائش کا ربن کاٹ کر افتتاح کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ 5فروری کو پوری قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں جلسے جلوس اور مظاہرے کرے گی، حکومت بھارت سے دوستی اور مذاکرات کی بھیک مانگ کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کررہی ہے ،بھارت جب تک کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں دیتا اس کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے ،حکومت اب تک کشمیر کمیٹی کا چیئرمین مقرر نہیں کرسکی،آج تک کسی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی،کشمیر پر کل کی طرح آج بھی خاموشی ہے ،سری نگر میں تو زندگی ہے مگر اسلام آبادسنگ مرمر کا قبرستان بن چکا ہے ،حکمران کشمیر میں بہنے والے خون اور بہنوں بیٹیوں اورماؤں کی عصمت دری پر بھی اندھے گونگے اور بہرے بنے ہوئے ہیں ، 1990سے 2018تک 95ہزار کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویداروں نے عوام کے لیے حج بیت اللہ اور روضہ رسول ؐ کی زیارت جیسی عبادت کو بھی مشکل بنا دیا ہے ،حکومت نیکی کے راستے بند اور بدی کے راستے کھول رہی ہے ۔سینما گھروں کو وسعت دینے کی بات کی جارہی ہے ۔حجاج کرام سے کئی گنا زیادہ کرائے وصول کیے جارہے ہیں ۔ حجاج اللہ کے گھر اور روضہ رسول ؐ پر حاضر ہوکر ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی دعائیں کرتے ہیں اور حکمران ایوانوں میں بیٹھ کر ان کی مشکلات کو بڑھانے کے منصوبے بناتے ہیں۔ اگر بھارت ،بنگلا دیش اور افغانستان جیسے ملک اپنے حجاج کو سبسڈی دیتے ہیں تو ہمارے حکمران انہیں کیوں پریشان کررہے ہیں۔ افغانستان جیسا جنگ زدہ اور غریب ملک اپنے حاجیوں کو ہر سہولت دے رہا ہے جبکہ ہمارے حکمران پہلی سہولتیں بھی چھین رہے ہیں ۔افغانستان میں حج اخراجات 2ہزار 7 سو ریال ہیں جبکہ پاکستان میں اس سے 3 گنا زیادہ وصول کیے جارہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب اورالحمرا قذافی اسٹیڈیم میں جے آئی یوتھ لاہور کے زیر اہتمام کشمیری نمائش کے افتتاح کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صدر جے آئی یوتھ زبیر گوندل ،امیر جماعت اسلامی لاہور ذکراللہ مجاہد ،سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں کا رویہ بھارت کے ساتھ دوستانہ اورکشمیر یوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا ہے ۔ ہم جب مغربی اور یورپی ممالک کے سفیروں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کرتے ہیں تو وہ پاکستانی حکمرانوں کے رویے کا گلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مدعی سست ہو تو گواہ کیسے چست ہوسکتا ہے ۔پاکستان5 سال تک سلامتی کونسل کا رکن رہا مگر ایک بار بھی اس نے عالمی سطح پر اس مسئلے کے حل کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح موجودہ حکومت بھی کشمیریوں کے ساتھ بے وفائی کررہی ہے ۔کشمیر ی پاکستان کی بقا اور تکمیل کی جنگ لڑ رہے ہیں ،لاکھوں شہدا نے پاکستان کے لیے اپنا خون پیش کیا ہے۔بھارت پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے لیے کلبھوشن جیسے دہشت گرد بھیج رہا ہے اور ہمارے حکمران اس کے بدلے میں فنکاروں اور اداکاروں کے طائفے بھجوا رہے ہیں یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ دشمن ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہم اسی دشمن کی طرف بار بار دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پوری اپوزیشن حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے مگر حکومت کو بھی 2قدم آگے بڑھ کر اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر مظفر آباد میں او آئی سی کا اجلاس بلائے اور تمام مسلم ممالک سے کشمیریوں کو حق خو دارادیت دلانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر قائل کرے ۔وزارت خارجہ میں کشمیر ڈیسک بنا کر ایک نائب وزیر خارجہ مقرر کیا جائے جسے دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی ذمے داری سونپی جائے ۔پاکستانی سفارتخانوں میں علیحدہ کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں۔ بھارت کے ساتھ تجارت اور دوستی کی باتیں بند کی جائیں اور اسے واضح پیغام دیا جائے کہ کشمیر کے علاوہ اس سے کوئی بات نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کشمیری شہدا کی قربانیوں کا ثمر ہے اگر کشمیری جدوجہد نہ کرتے تو آج بھارتی فوج مظفر آباد کے کوہالہ پل پر کھڑی ہوتی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 46 ممالک کی فوج کے ساتھ افغانستان کے نہتے عوام پر جنگ مسلط کرنے والا امریکا آج افغانوں سے مذاکرات کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ افغانوں نے ثابت کردیا ہے کہ ایمان کے اسلحے اور اللہ پر یقین کی طاقت کوکوئی شکست نہیں دے سکتا،لیکن ہمارے حکمرانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ۔