سانحہ ساہیوال: گرفتار سی ٹی ڈی اہلکار فائرنگ کرنے سے مکر گئے

217

لاہور: ساہیوال واقعے میں گرفتار سی ٹی ڈی اہلکار دورانِ تفتیش گاڑی پر فائرنگ سے مکرگئے۔

نجی کی رپورٹ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سی ٹی ڈی کے گرفتار اہلکاروں صفدر، رمضان، سیف اللہ اور حسنین سے تفتیش کی۔جے آئی ٹی نے گرفتار اہلکاروں سے سوال کیا کہ گاڑی پر فائرنگ کس نے کی؟ جس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے پہلے فائرنگ سے انکار کردیا۔

سی ٹی ڈی اہلکاروں کے فائرنگ سے انکار پر جے آئی ٹی نے ملزمان سے پوچھا کہ پھر کار میں سوار افراد کیسے ہلاک ہوئے؟ ملزمان نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے ملزمان سے سوال کیا کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ اس پر بھی ملزمان نے فائرنگ میں پہل کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ہمیں کسی نے حکم نہیں دیا، صرف جوابی فائرنگ کی تھی۔

وا ضح  رہے کہ 19 جنوری کی سہہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک کار پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس میں سوار 4 افراد جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوگئے۔واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیے گئے۔ واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا گیا جب کہ بعد ازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔