امام حسن البناؒ کے جانشین عمر تلمسانیؒ کی یادداشتیں!

119

دست جفا سر ہیں یہ ارباب وفا کے:
کیا آپ نے اس وصیت کے الفاظ و معافی دیکھے ہیں۔ اندازہ لگائیے کہ مرد مومن کی فراست اور مستقبل میں ظہور پزیر ہونے والے واقعات پراس کی مدبرانہ نظر کس طرح ایک ایک لفظ سے عیاں ہے۔ ہماری زندگی میں ہر وہ چیز رونما ہوئی جس کی جانب امام نے اشارہ کیا تھا۔ اخوان آزمائش کی چکیوں میں فاروق، جمال عبدالناصر اور سادات کے ادوار میں بری طرح پیسے گئے۔ اخوان پر ایسے مظالم توڑے گئے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان اور خوف خدا ہو وہ ایسے مظالم کسی ذی روح پر ڈھانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ہمیں ایسی ایذائیں دی گئیں کہ جس کا مستحق وہ شخص ہو سکتا ہے جس نے کسی کا مال لوٹ کھایا ہو، کسی کی عزت و ناموس پر حملہ آور ہوا ہو یا کسی کے باپ، بھائی اور بیٹے کو قتل کر ڈالا ہو۔ مگر ہم نے ان میں سے کون سا جرم کیا تھا؟ ہم پر جو ظلم ڈھائے گئے حقیقت میں وہ اس سزا سے بھی زاید تھے جو مندرجہ بالا جرائم کے مرتکبین کو ملتی ہے۔ ان ظالموں کے ظلم و ستم کے سامنے لگڑ بگڑ کی بہیمیت، چیتے کی خونخواری، شیر اور بھیڑیے کی دست درازی اور جنگل کی تاریکیوں میں ہونے والے کسی بھی وحشی جانور کے وحشیانہ حملے کی شناعت اور سختی ہیچ ہے۔ اس کی وجہ؟ اس کی وجہ بتانے سے تو میں قاصر ہوں، کیا یہ لوگ کافر تھے جنہوں نے ہم پرستم کے پہاڑ توڑے؟ نہیں ہم تو انہیں کافر نہیں کہتے۔ پھر کیا وہ اپنے آقاؤں کی وفاداری کا دم بھرنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہے تھے؟ نہیں، وفا اور بہیمیت ایک دل میں کہاں جمع ہو سکتے ہیں۔ پھر کیا وہ دشمنان اسلام کے پالتو ایجنٹ تھے اور کیا ہر تعذیب و ایذا کے ساتھ ان کے معاوضے میں اضافہ ہو رہا تھا؟ ایسی ذلیل اور ننگ انسانیت حیثیت اختیار کرنے کا الزام ہم تو نہیں لگا سکتے۔ تو پھر یہ سوال کہ انہوں نے یہ سب کچھ کیوں کیا جواب طلب ہے۔ اس کا جواب اور علم میرے ربّ ہی کے پاس ہے اور گردشِ ایام وقتاً فوقتاً ان رازوں کو افشا کرتی رہتی ہے جو لوگوں سے مدتوں پوشیدہ رہتے ہیں۔
ظلم کا عفریت اور صبر کے پہاڑ:
امام شہید نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ سچ نکلے۔ اخوان قید کر لیے گئے اور امام تنہا جیل سے باہر رہ گئے۔ امام کو اپنے ساتھیوں سے الگ کرنے کے بعد حکومت نے ان سے وہ اسلحہ واپس لے لیا جس کے لیے انہیں اس سے قبل باقاعدہ لائسنس دیا گیا تھا اس کے جلد ہی بعد امام کو دھوکے سے گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ سب لوگوں کو اخوان پر ڈھائے جانے والے سرکاری مظالم کا حال جان لینا چاہیے۔ حکومت نے محض لاٹھی، گولی اور قید و صلیب ہی کی سزائیں ہم کو نہیں دیں بلکہ نشرواشاعت کے جملہ وسائل کی توپوں کے دھانے بھی ہمارے خلاف زہر افشانی کے لیے کھول دیے۔ ہم پر دہشت پسندی کا الزام لگایا گیا اور اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ مصر میں کسی بھی وجہ سے کسی کے ہاتھوں کوئی وزیر یا اہم سرکاری شخصیت قتل ہو جاتا تو الزام اخوان کے سر تھوپا جاتا اور پروپیگنڈے کا وہ طوفان اٹھتا کہ خدا کی پناہ۔ مگر امام حسن البنا کی سربازار شہادت یا حکومت کے ہاتھوں عبدالقادر عودہ شہید، ابراہیم الطیب شہید اور یوسف طلعت شہید کا سفاکانہ قتل جس کی بنیاد حکومت نے ایک من گھڑت کہانی اور واردات قتل کا جھوٹا الزام لگا کر تیار کی تھی یا بعد میں سید قطب شہید، یوسف حواش شہید اور ان کے دیگر ساتھیوں کی جرم بے گناہی میں پھانسیوں کی خبر عوام تک نہ پہنچنے دی گئی۔ ہزاروں اخوان پابند سلاسل و زنداں رہے مگر ذرائع اطلاعات نے ان کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ یہ کتنا ظلم اور اندھیر نگری تھی کہ بے گناہ اور قیمتی جانیں تلف کی گئیں اور صحافت و ریڈیو نے اشارتاً یا کنایتاً بھی اس کا تذکرہ نہ کیا۔ مگر کیا حقائق اس طرح پوشیدہ رہ سکتے تھے؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ ظالموں کے قبیح چہروں سے پردہ ضرور اتارا جائے گا۔ اور ہر شخص ان انسانی بھیڑیوں کی سفاکی سے باخبر ہو جائے گا سو اب راز کھلتے جا رہے ہیں۔
اسفل سافلین:
قارئین میں کن الفاظ سے اس قیامت کا ذکر کروں جو سرزمین مصر میں اہل حق کے ساتھ بیت گئی۔ اخوان کے ساتھی پھانسیوں پر چڑھائے گئے اور ارباب اختیار نے اپنے درندوں کو حکم صادر کر دیا تھا کہ وہ رہی سہی کسر بھی نکال دیں۔ ان درندوں نے کیا کیا؟ زندانیوں کا قتل و خون؟ نہیں، اگر یہ ہماری بوٹیاں بھی نوچ لیتے اور ہمیں زندہ آگ میں بھی پھینک دیتے تو یہ عمل نہایت ہلکا ہوتا۔ انہوں نے اخوان کی آنکھوں کے سامنے ان کے گھروں کی عصمت مآب پردہ نشین خواتین، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں لوٹیں!!! اس وحشیانہ عمل کے دوران تالیاں پیٹی گئیں۔ قہقہے بلند کیے گئے اور نہایت ذلیل قسم کے گھٹیا تبصرے جاری ہوئے۔ اے کاش کہ اس واقعہ سے قبل زمین پھٹ جاتی یا آسمان ٹوٹ پڑتا۔
یہ تھا ان ادوار میں عدل و انصاف۔۔۔ اگر ان لوگوں کو جو زمام اقتدار پر قابض ہیں پھر کبھی ایسا موقع میسر آیا تو وہ اپنے پیش روؤں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے اسی ڈگر پر دوبارہ چلیں گے۔
ولعذاب الاٰخرۃ اخزیٰ
اخوان پر مظالم ڈھانے والے ہماری آنکھوں کے سامنے اپنے انجام بد کو پہنچے اور اب عبرت کی نشانی اور ضرب المثل بن چکے ہیں۔ حمزہ البسیونی، عبدالطیف اور ان کے دیگر درندہ صفت ساتھی قدرت کی سخت پکڑ سے نہ بچ سکے۔ دنیا میں ہی ذلت ناک عذاب نے ان کو آ لیا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں سخت اور زیادہ ذلت آمیز ہے۔ یہ لوگ مسلسل ظلم و ستم کیا کرتے تھے۔ وہ اخوان کے بارے میں یقین رکھتے تھے کہ اگر اخوان کو موقع ملا تو وہ ان سے پورا پورا انتقام لیں گے۔ اس وجہ سے ان بدبختوں کی خواہش اور کوشش تھی کہ اخوان کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ اخوان کے بارے میں ان کا یہ گمان اس وجہ سے تھا کہ وہ ہمیں اپنے ہی پیمانوں سے ناپتے تھے حالاں کہ ہمارا یہ سوچا سمجھا موقف ہے کہ ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ ہم پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں وہ دراصل دین الٰہی سے دشمنی اور عداوت کی وجہ سے ہیں۔ ہم اگر کسی سے انتقام لے بھی لیں تو وہ اتنا سخت نہیں ہو سکتا جتنا اللہ ربّ العزت کا انتقام، پس ہم نے سارے ظالموں کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ ان بطش ربک لشدید۔ (بے شک تیرے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے)
(جاری ہے)