قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

102

 

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں؟ مگر اِس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔ جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے، پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔ دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔ اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبیؐ، ان سے کہدو کہ: ’’میرے لیے اللہ بس کرتا ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پر میں نے بھروسا کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا‘‘۔ (سورۃ التوبہ: آیت 126 تا 129)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’بیوہ عورت اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اللہ کی راہ میں سعی کرے‘‘ یعنی وہ شخص بیوہ عورت اور مسکین کی دیکھ بھال اور خبر گیری کرتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر کے ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو اس ثواب کے برابر ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد اور حج کرنے والے کو ملتا ہے اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ: ’’بیوہ عورت اور مسکین کی خبر گری کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جو نماز و عبادت کے شب بیداری کرتا ہے اور اپنی شب بیداری میں نہ کوئی سستی کرتا ہے اور نہ کسی فتور اور نقصان کو گوارا کرتا ہے، اور اس شخص کے مانند ہے جو دن کو کبھی افطار نہیں کرتا کہ جس کو صائم الدھر کہا جاتا ہے۔‘‘ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.