صحافی قتل کیس،سعودی عرب کے گرد تھیرا تنگ 

78
انقرہ: سعودی قونصل خانے کی عمارت میں تفتیشی حکام داخل ہو رہے ہیں‘ چھوٹی تصاویر میں (دائیں جانب) جمال خاشق جی کی حمایت میں  مظاہرہ کیا جا رہا ہے، دوسری (بائیں جانب) تصویر میں جمال خاشق جی کی دستی گھڑی دکھائی گئی ہے
انقرہ: سعودی قونصل خانے کی عمارت میں تفتیشی حکام داخل ہو رہے ہیں‘ چھوٹی تصاویر میں (دائیں جانب) جمال خاشق جی کی حمایت میں  مظاہرہ کیا جا رہا ہے، دوسری (بائیں جانب) تصویر میں جمال خاشق جی کی دستی گھڑی دکھائی گئی ہے

انقرہ ؍ واشنگٹن ؍ ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی صحافی جمال خاشق جی کی پراسرار گمشدگی اور تاحال کوئی نتیجہ نہ نکلنے کے بعد تازہ ترین صورت حال کے مطابق سعودی عرب پر عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ ریاض حکومت سمیت خلیجی ممالک نے اس معاملے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں اور رپورٹس کو سعودی عرب کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک ترک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک حکام نے سعودی صحافی جمال خاشق جی پر استنبول کے سعودی قونصل خانے میں تشدد اور پھر ان کے قتل سے متعلق بعض آڈیو ریکارڈنگ حاصل کرلی ہیں۔ ترک روزنامے ’صباح‘ کی جانب سے یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کے ماہرین کی ایک ٹیم ترکی پہنچی ہے جو ترک حکام کے ساتھ مل کر لاپتا صحافی سے متعلق تحقیقات کرے گی۔ ’صباح‘ نے ہفتے کے روز اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ جمال خاشق جی نے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے وقت ’ایپل‘ کمپنی کی دستی گھڑی پہنی ہوئی تھی جو ان کے اس فون سے منسلک تھی جو قونصل خانے کے باہر موجود ان کی منگیتر کے پاس تھا۔ اخبار کے مطابق خاشق جی نے قونصل خانے میں داخل ہوتے وقت اپنی گھڑی پر وائس ریکارڈنگ کا فیچر آن کردیا تھا جس کے باعث ان کی گھڑی اور اس سے منسلک فون نے قونصل خانے میں ان کے ساتھ کی جانے والی تفتیش، مار پیٹ اور آخر کار قتل تک کے تمام واقعات کی آوازیں محفوظ کرلی تھیں۔ ’صباح‘ کی اس رپورٹ سے قبل 2 ترک اہلکاروں نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو میں بھی تصدیق کی تھی کہ قونصل خانے میں داخل ہوتے وقت خاشق جی نے ایپل کی گھڑی پہن رکھی تھی جو اس فون سے منسلک تھی جو وہ قونصل خانے کے باہر موجود اپنی منگیتر کے پاس چھوڑ گئے تھے۔ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس دستی گھڑی سے کوئی ڈیٹا باہر فون یا کسی کلاؤڈ میموری میں منتقل ہوا تھا یا نہیں اور اگر ہوا تھا تو تفتیش کار کس طرح اس تک رسائی حاصل کریں گے۔ تاہم ہفتے کو ’صباح‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسے مصدقہ ذرائع سے علم ہوا ہے کہ خاشق جی نے قونصل خانے میں داخل ہوتے وقت اپنی گھڑی پر وائس ریکارڈنگ آن کرلی تھی جس نے بعد میں پیش آنے والے تمام واقعات کی آوازیں محفوظ کرلیں۔ اخبار کے مطابق سعودی انٹیلی جنس اہلکاروں کو خاشق جی کے قتل کے بعد پتا چلا کہ ان کی گھڑی ریکارڈنگ پر لگی ہے جس کے بعد انہوں نے خاشق جی کا فنگر پرنٹ لے کر گھڑی کو ان لاک کیا اور اس میں سے بعض فائلیں ڈیلیٹ کردیں۔ لیکن اخبار کے مطابق بعض فائلیں پھر بھی محفوظ رہ گئی تھیں جنہیں بعد ازاں ترک حکام نے ان کے فون سے حاصل کرلیا۔ قبل ازیں جمعرات کے روز ترکی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے معاملے کی مشترکہ تحقیقات کی سعودی تجویز قبول کرلی ہے جس کے بعد سعودی ماہرین کی ایک ٹیم ہفتے کے روز استنبول پہنچی تھی۔ذرائع کے مطابق سعودی شہزادے خالد الفیصل کی سربراہی میں آنے والے وفد نے خاشق جی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے والے ترک اہلکاروں کے علاوہ وزارتِ انصاف، وزارتِ داخلہ، پولیس اور نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں تاہم دونوں ملکوں کی حکومتوں نے سعودی وفد کے دورہ ترکی کے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی اس دورے کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ریاض حکومت لاپتا سعودی صحافی جمال خاشق جی کے کیس میں انقرہ حکومت کے ساتھ تعاون کرے۔ ہفتے کے روز لندن میں صحافیوں سے گفتگو میں مولود چاوش اولو نے کہا کہ ترک پولیس کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے تک رسائی دی جائے تاکہ چھان بین کا عمل شروع کیا جا سکے۔ اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ لاپتا سعودی صحافی جمال خاشق جی استنبول میں سعودی قونصل خانے میں ہلاک کیے گئے ہیں تو ریاض حکومت کو سخت سزا دی جائے گی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک انٹرویو کے حوالے سے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ انہوں نے نشریاتی ادارے سی بی ایس سے گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن حکومت اس معمے کا حل تلاش کر لے گی اور اگر اس میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو ذمے داران کو سزا بھی دی جائے گی۔ امریکی صدر کا مکمل انٹرویو آج نشر کیا جائے گا تاہم اس کے اقتباسات گزشتہ روز جاری کردیے گئے۔ قبل ازیں ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ اس معاملے کی وجہ سے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کے معاہدوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تناظر میں کہا کہ وہ لوگوں کی ملازمتوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیریس نے لاپتا سعودی صحافی جمال خاشق جی سے متعلق حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ سعودی صحافی کی گمشدگی کے حقائق سامنے لائے جائیں۔ خدشہ ہے کہ گمشدگیاں مزیدہوں گی اور یہ نیامعمول رائج ہو جائے گا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے جمال خاشق جی کے قتل کی منصوبہ بندی اور اس میں حکومت کے ملوث ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے ذرائع ابلاغ اور حکومتوں کی طرف سے خاشق جی کے معاملے میں سعودی عرب کو بدنام کرنے کی شدید مذمت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافی کی گمشدگی کے حوالے سے خود سعودی عرب کو بھی تشویش ہے۔ کسی بھی طرح کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔سعودی عرب اپنے شہریوں کے تحفظ کا خواہاں ہے۔ دریں اثنا خلیجی ممالک کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطاق خلیجی قیادت نے جمال خاشق جی کے حوالے سے مثبت اور سعودی عرب کی حمایت میں موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ جس انداز میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ ریاض حکومت کو بدنام کرنے کی منظم سازش ہے۔
سعودی عرب ؍ گھیرا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.