عمرکوٹ، خواتین کی بیماریوں سے متعلق دو روزہ مفت طبی کیمپ

47

عمرکوٹ (نمائندہ جسارت) معروف گائنالوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا ہے کہ تھر میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ خواتین میں غذائی قلت، کم عمر میں شادیاں اور حاملہ خواتین کی زچگی کا ہونا، بچوں کی پیدائش میں وقفہ نہ ہونا، بڑی وجوہات ہے، معروف گائنالوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ نے دو روزہ میڈیکل کیمپ میں دس خواتین کے مختلف میجر آپریشن کیے۔ سندھ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن SDA لندن کے تعاون سے پارس میٹرنٹی اسپتال اینڈ نیو بورن کیئر سینٹر عمرکوٹ میں خواتین کی بیماریوں سے متعلق دو روزہ مفت میڈیکل کیمپ لگایا گیا، اس میڈیکل کیمپ میں کراچی کی معروف گائنالوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کی قیادت میں خواتین مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔ گائنالوجسٹ سرجن ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے گھروں کے نزدیک صحت کے بنیادی مراکز کا ہونا ضروری ہے، تاکہ بروقت ضرورت ماں اور بچے کو صحت کی سہولیات فوری مل سکیں۔ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں تھر وغیرہ میں خواتین کو غذائی قلت اور خون کی کمی کا سامنا ہے، تھر میں بچوں کی اموات کی چند بڑی وجوہات میں حاملہ خواتین کی قبل از وقت زچگی کا عمل، خواتین میں خون کی شدید کمی اور غذائی قلت کی وجہ سے کمزور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ کمزور بچے میں بیماری سے بچنے کی قوت نہیں ہوتی جس کے باعث بچے پر نمونیا اور سینے کے انفیکشن حملہ آور ہوجاتے ہیں جو بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کم عمر میں شادیاں ضرورت سے زیادہ بچوں کی پیدائش میں وقفے کا نہ ہونا، خواتین اور بچوں میں بڑھتے ہوئے امراض کا بنیادی سبب ہے، اس کے علاوہ صحت کے مراکز میں عملے کا غیر تربیت یافتہ ہونا صحت کے مراکز میں بنیادی سہولیات کا نہ ہونا وغیرہ شامل ہے۔ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے بتایا کہ ہم نے اس دو روزہ میڈیکل کیمپ میں دس کے قریب خواتین کی مخصوص بیماریوں کے میجر آپریشن کیے ہیں، یہ آپریشن کراچی یا حیدر آباد میں ہی ہوسکتے تھے، لیکن انہیں خوشی ہے کہ عمرکوٹ پارس میڑنٹی اسپتال میں تمام جدید سہولیات موجود ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ